کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 85

قاضی شریح کی عدالت تک پہنچا تو قاضی شریح نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گواہ طلب کئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حسن رضی اللہ عنہ اور غلام قنبر کو بطور گواہ پیش کیاقاضی شریح نے کہا کہ غلام کی گواہی آقا کے حق میں اور بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں قابل قبول نہیں ہے اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرا بیٹا ہی نہیں بلکہ جوانان جنت کا سردار بھی ہے الغرض قاضی شریح نے گواہوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ ذرع یہودی کو دے دی چونکہ یہ واقعہ موضوع ہے اس لئے قابل بیان نہیں ہے۔(عبدالحمید گوندل) ساری سند مجہول ہے ، بلکہ شیخ ابن خلف توعلی بن عبداللہ کی موضوعات کا ناقل ہے۔ کما ذکرہ ابن ابی حاتم فی الجرح والتعدیل ص 193ج3عن ابیہ ایضاً والحافظ الذھبی فی میزان الاعتدال ص 221ج2والحافظ ابن حجر فی لسان المیزان ص 236-237ج3وغیرہ ۔ قال حدثنی علی بن عبدالله بن معاویه بن میسرة بن شریح بن الحارث القاضی قال حدثنی ابی عن ابیه معاویة عن میسر عن شریح قال لما رجع علی من قتال معاویة وجد ذرعا له افتقده بید یهودی یبیعها فقال علی درعی لم ابع ولم اهب فقال الیهودی درعی و فی یدی فاختصما الی شریح فقال له شریح حین ادعی هل لك بینة قال نعم قنبر والحسن ابنی فقال شریح شهادة الا بن لا تجوز للاب قال سبحان الله رجل من اهل الجنة. ساری سند مجہول ہے ، بلکہ شیخ ابن خلف توعلی بن عبداللہ کی موضوعات کا ناقل ہے۔ کما ذکرہ ابن ابی حاتم فی الجرح والتعدیل ص 193ج3عن ابیہ ایضاً والحافظ الذھبی فی میزان الاعتدال ص 221ج2والحافظ ابن حجر فی لسان المیزان ص 236-237ج3وغیرہ ۔ قال حدثنی علی بن عبدالله بن معاویه بن میسرة بن شریح بن الحارث القاضی قال حدثنی ابی عن ابیه معاویة عن میسر عن شریح قال لما رجع علی من قتال معاویة وجد ذرعا له افتقده بید یهودی یبیعها فقال علی درعی لم ابع ولم اهب فقال الیهودی درعی و فی یدی فاختصما الی شریح فقال له شریح حین ادعی هل لك بینة قال نعم قنبر والحسن ابنی فقال شریح شهادة الا بن لا تجوز للاب قال سبحان الله رجل من اهل الجنة. ساری سند مجہول ہے ، بلکہ شیخ ابن خلف توعلی بن عبداللہ کی موضوعات کا ناقل ہے۔ کما ذکرہ ابن ابی حاتم فی الجرح والتعدیل ص 193ج3عن ابیہ ایضاً والحافظ الذھبی فی میزان الاعتدال ص 221ج2والحافظ ابن حجر فی لسان المیزان ص 236-237ج3وغیرہ ۔ جھوٹے اور بے سند قصے بیان کرنے کے علاوہ معرفت کے دعوے داروں کو اور آتا ہی کیا ہے؟ قال: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ’’اللھم ادر الحق حیث دار علی ‘‘ اے اللہ حق کو اسی

  • فونٹ سائز:

    ب ب