کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 87

صحیح ہوسکتی ہے کہ ’’یہ حدیث تمام محدثین نے بیان کی ہے‘‘لہذا اس شخص سے بڑا جھوٹا اور کوئی نہیں ہے جو کسی روایت کے متعلق یہ دعوی کرے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اورعلماء محدثین نے یہ روایت بیان کی ہے حالانکہ وہ روایت اصلاً کسی سے بھی منقول نہ ہو یہ واضح جھوٹ ہے ہاں اگر یوں کہا جائے کہ بعض علماء نے اس روایت کو نقل کیا ہے اگر اس روایت کی سند صحیح ہوگی تویہ بات ممکن ہوسکتی ہے اور اگر سند صحیح نہیں تو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرایک بہتان ہوگا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہونگے علاوہ ازیں حق تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے ساتھ رہتا ہے ، دوسرا کوئی شخص اس خصوصیت کا حامل نہیں ہوسکتا۔ اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات تسلیم کر لی جائے تو پھر انہیں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح معصوم ماننا پڑے گا(جو ناممکن ہے)۔ قال: اللہ تعالی نے قرآن شریف میں گواہ پیش کئے ہیں الخ۔(صفحہ 52) اقول: یہ کمال معرفت ہے کہ اللہ کے رسول کی اطاعت کے لئے گواہ امت کے افراد ہوں البتہ یہ ضرور ہوگا کہ ابوبکر عثمان علی رضی اللہ عنہم کی حقانیت اور صداقت ، دیانت ا ور امانت کے لئے قرآن و حدیث سے دلائل پیش کئے جائیں گے اور گواہیاں لی جائیں گی لیکن چودھویں صدی کے مجتہد جو ایک طرف اجتہاد کی راہ کو مسدود قرار دیتے ہیں ، اسے شجر ممنوعہ تصور کرتے ہیں اور دوسری طرف ایسا اجتہاد کرتے ہیں کہ جو پہلے کسی نے پیش ہی نہیں کیا یعنی خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کے گواہ ہیں ۔ جس روایت پر اس تفسیر کی بنیاد رکھی گئی ہے وہ تو من گھڑت ہے حدیث کی کسی مشہور و معتبر کتاب میں موجود نہیں ہے اور یہ بات اس لحاظ سے بھی غلط ہے کہ آیت مذکورہ کے ساتھ صرف خلفاء اربعہ رضی اللہ عنہم کو خاص کیاگیا ہے جبکہ معنی ومفہوم

  • فونٹ سائز:

    ب ب