کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 89

وکل من الاربعة موصوف بذلك کله ان کان بعض الصافات فی بعض اقوی منها فی آخر. یہ تفسیر یقینا باطل ہے جواکثر جہلا کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ والذین معہ سے مراد ابو بکر ہیں ۔اشداء علی الکفار سے مراد عمر ہیں ، رحماء بینہم سے مراد عثمان اور تراہم رکعا سجدا سے مراد علی رضی اللہ عنہم ہیں یہ لوگ ان صفات کو متعدد موصوف کیلئے خاص کرتے ہیں اور موصوف صرف ان چاروں کو ہی مراد لیتے ہیں جبکہ یہ آیت اس قسم کی تفسیر کے ردم یں بالکل واضح ہے کیونکہ یہ اس بات کی وضاحت کررہی ہے کہ یہ تمام صفات سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لئے خاص ہیں اور وہ (موصوف بہذا الصفات) زیادہ ہیں ایک نہیں ہے اگرچہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ چاروں (ابوبکر، عثمان ، عمر، علی رضی اللہ عنہم) ان تمام صحابہ میں افضل ہیں اور ان تمام صفات سے متصف ہیں اگر چہ کچھ صفات کسی میں زیادہ کسی میں کم ہیں ۔ اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تفسیر جہلاء کی خود ساختہ ہے جسے مقرر صاحب مسند خطابت پر براجمان ہوکر مخلوق کی رہنمائی کیلئے بیان کررہے ہیں اللہ انہیں ہدایت نصیب کرے۔ قال: ایک دوبڑے سوراخ تھے جنہیں اپنا پیر رکھ کر بند کیا (الی قولہ) اندر سے کوئی موذی چیز کاٹنے لگی۔(1)(صفحہ 53) اس بات کا تعلق واقعہ ہجرت سے ہے ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی معی میں مکہ سے پانچ میل دور غار ثور میں پناہ لیتے ہیں غار کے دھانے پر پہنچ کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل نہ ہوں ، پہلے میں داخل ہوکر دیکھتا ہوں اگر اس میں کوئی موذی چیز ہوئی تو مجھے اس سے

  • فونٹ سائز:

    ب ب