کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 90
سابقہ پیش آئے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ اندر گئے اور غار کو صاف کیا۔ ایک جانب چند سوراخ تھے جنہیں اپنا تہہ بند پھاڑ کر بند کیا لیکن دو سوراخ باقی بچ گئے ان دونوں پر جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے پاؤں رکھ لئے……کسی موذی چیز نے آپ رضی اللہ عنہ کے پاؤں میں ڈس لیا۔ اقول: مذکورہ واقعہ بھی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ البدایہ والنہایہ میں یہ واقعہ امام بیہقی سے بغیر سند کے ذکر کرکے فرماتے ہیں : ]و فی ہذا السیاق غرابة و نکارة] یہ روایت غریب اور منکر ہے ۔ مقرر صاحب کو عمر بھر کے لئے چیلنج ہے کہ یہ واقعہ کسی معتبر کتاب میں صحیح سند کے ساتھ پیش کریں او ربس۔ قال: کبوتری کو حکم ہوا کہ تم وہاں انڈے دے دو۔(صفحہ 54) اقول: کبوتری کے انڈے دینے والا واقع بھی منکر و مردود ہے طبقات ابن سعد صفحہ 288ج1طبع بیروت مین مندرجہ ذیل سند سے مروی ہے : قال اخبرنا مسلم بن ابراہیم اخبرنا عون بن عمرو القیسی اخو ریاح القیسی اخبرنا ابو مصعب المکی قال ادرکت زید بن ارقم و انس بن مالک والمغیرة بن شعبة الحدیث.عون بن عمرو قال ابن معین لا شئی و قال البخاری منکر کما فی میزان الاعتدال (ص 209ج2) ابن سعد ، مسلم بن ابراہیم سے وہ عون بن عمرو القیسی سے بیان کرتے ہیں جو ریاح القیسی کابھائی ہے وہ ابو المصعب سے روایت کرتے ہیں کہ مین زید بن ارقم ، انس بن مالک اور مغیرہ بن شعبہ سے ملا۔ عون بن عمرو القیسی کے متعلق ابن معین فرماتے ہیں کہ ’’لا شئی‘‘اور امام بخاری رحمہ اللہ اسے منکر کہتے ہیں ۔