کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 90

سابقہ پیش آئے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ اندر گئے اور غار کو صاف کیا۔ ایک جانب چند سوراخ تھے جنہیں اپنا تہہ بند پھاڑ کر بند کیا لیکن دو سوراخ باقی بچ گئے ان دونوں پر جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے پاؤں رکھ لئے……کسی موذی چیز نے آپ رضی اللہ عنہ کے پاؤں میں ڈس لیا۔ و فی هذا السیاق غرابة و نکارة و فی هذا السیاق غرابة و نکارة یہ روایت غریب اور منکر ہے ۔ مقرر صاحب کو عمر بھر کے لئے چیلنج ہے کہ یہ واقعہ کسی معتبر کتاب میں صحیح سند کے ساتھ پیش کریں او ربس۔ قال: کبوتری کو حکم ہوا کہ تم وہاں انڈے دے دو۔(صفحہ 54) (ص 209ج2) قال اخبرنا مسلم بن ابراهیم اخبرنا عون بن عمرو القیسی اخو ریاح القیسی اخبرنا ابو مصعب المکی قال ادرکت زید بن ارقم و انس بن مالک والمغیرة بن شعبة الحدیث.عون بن عمرو قال ابن معین لا شئی و قال البخاری منکر کما فی میزان الاعتدال (ص 209ج2) قال اخبرنا مسلم بن ابراهیم اخبرنا عون بن عمرو القیسی اخو ریاح القیسی اخبرنا ابو مصعب المکی قال ادرکت زید بن ارقم و انس بن مالک والمغیرة بن شعبة الحدیث.عون بن عمرو قال ابن معین لا شئی و قال البخاری منکر کما فی میزان الاعتدال (ص 209ج2) ابن سعد ، مسلم بن ابراہیم سے وہ عون بن عمرو القیسی سے بیان کرتے ہیں جو ریاح القیسی کابھائی ہے وہ ابو المصعب سے روایت کرتے ہیں کہ مین زید بن ارقم ، انس بن مالک اور مغیرہ بن شعبہ سے ملا۔ عون بن عمرو القیسی کے متعلق ابن معین فرماتے ہیں کہ ’’لا شئی‘‘اور امام بخاری رحمہ اللہ اسے منکر کہتے ہیں ۔ اور حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ البدایۃ والنہایۃ صفحہ 182ج3میں یہ روایت لکھ کر فرماتے ہیں : قال العقیلی مجهول اور حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ البدایۃ والنہایۃ صفحہ 182ج3میں یہ روایت لکھ کر فرماتے ہیں :

  • فونٹ سائز:

    ب ب