کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 91

قال العقیلی مجهول قال: ’’او هذا حدیث غریب جدا من هذا الوجه قال: ’’او هذا حدیث غریب جدا من هذا الوجه قال: ’’اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا‘‘رب ہمارے ساتھ ہے ، تیرے ساتھ بھی اور میرے ساتھ بھی(صفحہ 55) سالت سفیان الثوری عن قول الله عزوجل وهو معکم قال علمه و عن الضحاك قال هو الله عزو جل علی العرش و علمه معکم و هکذا عن مقاتل بن حیان سالت سفیان الثوری عن قول الله عزوجل وهو معکم قال علمه و عن الضحاك قال هو الله عزو جل علی العرش و علمه معکم و هکذا عن مقاتل بن حیان میں نے سفیان ثوری سے اللہ تعالی کے اس قول کی بابت پوچھا کہ’’وَ هُوَ مَعَکُمْ سے کیا مراد ہے؟فرمایا اس سے مراد اللہ کا علم ہے ضحاک فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی عرش پر مستوی ہے اور اسکا علم تیرے ساتھ ہے ، اسی طرح مقاتل بن حیان کا بھی قول ہے۔ بعض اہل علم اس حدیث کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ وہ (پتھر جو جہنم میں گرایا گیا ) اللہ کے علم ، اس کی قدرت اور اس کے حکم سے گرا اور اللہ کا علم ، قدرت او ر بادشاہت ہر جگہ ہے اور وہ بذاتہ عرش پر ہے جیسا کہ قرآن کریم میں بیان ہوا۔ وفسر بعض اهل العلم هذا الحدیث فقالوا انما هبط علی علم الله وقدرته وسلطانه و علم الله و قدرته و سلطانه فی کل مکان وهو علی العرش کما وصف فی کتابه. بعض اہل علم اس حدیث کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ وہ (پتھر جو جہنم میں گرایا گیا ) اللہ کے علم ، اس کی قدرت اور اس کے حکم سے گرا اور اللہ کا علم ، قدرت او ر بادشاہت ہر جگہ ہے اور وہ بذاتہ عرش پر ہے جیسا کہ قرآن کریم میں بیان ہوا۔ وفسر بعض اهل العلم هذا الحدیث فقالوا انما هبط علی علم الله وقدرته وسلطانه و علم الله و قدرته و سلطانه فی کل مکان وهو علی العرش کما وصف فی کتابه.

  • فونٹ سائز:

    ب ب