کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 92

بعض اہل علم اس حدیث کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ وہ (پتھر جو جہنم میں گرایا گیا ) اللہ کے علم ، اس کی قدرت اور اس کے حکم سے گرا اور اللہ کا علم ، قدرت او ر بادشاہت ہر جگہ ہے اور وہ بذاتہ عرش پر ہے جیسا کہ قرآن کریم میں بیان ہوا۔ اور جو کچھ مولوی صاحب نے بیان کیا ہے اسے تسلیم کرنے سے باری تعالی کی ذات کے لئے نقص لازم آئے گا کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتاہے موقع اور محل کے مطابق کبھی اس کے ساتھ تو کبھی اس کے ساتھ ۔تعالی الله عما یقولون علوا کبیرا. قال: اس کا معنی یہ کہ تیرے ساتھ تیری حیثیت میں اورمیرے ساتھ میری حیثیت میں ۔(صفحہ 55) اقول: یہ دو حیثیتں قرآن کی کس آیت میں مذکور ہیں ؟کیاکوئی حدیث پیش کر سکتے ہو یاہ صرف تمہارے باطنی علم میں ہیں ؟سوال یہ ہے کہ کیا اللہ پر ہماری حیثیتوں کا اثر پڑتا ہے ؟یہ تو صوفیاء کے ہاں ہے جو یہ کہتے ہیں کہ منقلب بانقلابنا. تعالی الله عما یصفون. قال: ایک زبردست سوال ہے ۔(ص55) اقول: یہ سوال جبھی پیدا ہوا کہ آپ نے سلف صالحین کے خلاف معنی کیا جیسا کہ پہلے ذکر ہوا لیکن جو معنی سلف صالحین نے بیان کیا ہے اس میں کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ قال: سورج کے سامنے آئینہ رکھو(الی قولہ) اسی طرح تبارک و تعالی نے نبوت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود پر نازل کرکے اسے چمکا دیا ، اور صدیق کی حیثیت آئینے کی طرح ہے۔ (صفحہ 56) اقول : یہ مثال بھی غلط ہے جو کہ صرف رائے اور فلسفہ پر مبنی ہے ، اگر نبوت کی تشبیہ سورج سے صحیح ہوتب بھی اس کا آئینہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہوگی کہ جس سے نبوت کی روشنی صحیح اورکامل نظر آتی ہے جس طرح آئینے میں سورج نظر آتا ہے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’لتبین للناس ‘‘کے مصداق وحی الہی کو کھول کھول کر بیان کیا۔ باقی ابوبکر رضی اللہ عنہ یا کسی او ر شخص کو نبوت کا آئینہ کہنے میں کئی مفاسد لازم آتے ہیں ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب