کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 94

ثالثاً: یہاں آئینے میں سورج کا عکس پورا نظر کیوں نہ آیا؟ رابعاً: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’کچھ غلط ہے‘‘تب بھی آئینے کو اپنی غلطی کا پتہ نہ چلابلکہ قسم کھا کر پوچھا۔ خامساً: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلطی نہ بتائی بلکہ خاموش رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سکوت نے عکس والی مثال کو ھباء منثورا کر دیا ۔ علاوہ ازیں جو مثال پیش کی گئی ہے اس کی ممثل لہ کے ساتھ کوئی موافقت نہیں ہے کیونکہ مثا میں کہا تھا : جس طرح آئینے میں سورج اتر جاتا ہے بالکل اسی طرح اللہ تبارک و تعالی نے نبوت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود پر نازل کرکے اسے سورج کی طرح چمکا دیا (صفحہ 56) اس سے معلوم ہوا کہ ایسا آئینہ تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنیں گے نہ کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ لہذا یہ مثال غلط ہے اہل معرفت اسے مانتے ہیں تومانیں مگر اہل علم اسے تسلیم نہیں کرتے۔ قال: جو انوار نبوت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر نازل ہوتی ہیں اس کا عکس صدیق کے قلب پر اس طرح ہوتا ہے جس طرح آئینے میں سورج اترتا ہے۔(ص56) اقول: بہت خوب ’’مردان چنین کنند‘‘ قادیانی ظلی نبوت کی اصل آپ نے ڈھونڈ نکالی۔مقرر صاحب ذرا بتاؤ کہ اگر بات یہی ہے تو اوپر ذکر کردہ روایت میں صدیق رضی اللہ عنہ سے غلطی کیوں ہوئی ؟ قال: پھر جو صورت ، جو شکل،اور جو چمک سورج کی ہے لازماً اسی طرح آئینے میں نظر آئے گی ، ان دونوں کی چمک میں کسی طرح کا کوئی فرق نہیں ہے۔(ص56) اقول : یہی کچھ تو قادیانی ظلی نبوت والے کہتے ہیں پھر اس طرح ان دونوں میں کیا فرق رہ گیا ؟اہل معرفت صوفیاء اب صدیق کاعکس پیش کرتے ہیں پھر کوئی دوسرا عکس دیکھیں گے تو وہ بیان کریں گے مقرر صاحب ذرا غور فرمائیں کیا دیگر صحابہ عکس نہیں بن

  • فونٹ سائز:

    ب ب