کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 96

اقول: اگر حیثیت تبدیل نہ ہوئی توپھرنبی اور امتی میں کیا فرق رہا؟تمہارے صوفیاء تو یہ کہتے ہیں ولی کا درجہ نبی سے بڑھ کر ہ ۔(استغفراللہ) قال: یہ ایک گواہ ہے۔(ص56) اقول: نبی کے لئے گواہ ۔یہ تو خود اندھیر نگری ہے ساری تقریر کا دارومدار جھوٹی اور غیر معتبر روایات یا خیالی مقدمات پر رکھا ہوا ہے ایسے مفروضات کا نتیجہ باطل کے سوا اور کیا ہوگا؟۔ قال: دوسرا گواہ ’اَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ‘‘(ص56) اقول: اَشِدَّاءُ صیغہ جمع ہے اس سے فقط سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مراد لینا کس مفسر کی تفسیر یا کونسا قانون ہے ؟کوئی اصل پیش کر سکتے ہو؟ قال: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہودی اور مسلمان فیصلہ کرانے کے لئے آئے (الی قولہ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو فاروق ہے(ص57-58) اقول: اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے مقرر صاحب نے کچھ ایسی باتیں کہیں ہیں جو اصل واقع میں موجود نہیں ہیں۔ اولا: کہتے ہیں کہ سیدنا عمر کو خونی اورمجرم کی حیثیت سے بلایا گیا ۔(ص 57) یہ مولوی صاحب کی اپنی معرفت ہے اس حیثیت سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلانے کا کہیں ذکر نہیں البتہ تفسیر نسفی ص233ج1میں اس طرح مذکور ہے۔ قیل جاء اولیاء المنافق یطلبون بدمه و هکذا فی الخازن.(ص1ج1) کہاگیا ہے کہ اس منافق کے سر پرست آکر قصاص کا مطالبہ کرنے لگے تفسیر خازن میں بھی اسی طرح ہے۔ غور فرمائیں نہ سند کا ذکر ہے اور نہ ہی کسی کتاب کا حوالہ بلکہ صیغہ تمریض یعنی قیل سے منقول

  • فونٹ سائز:

    ب ب