کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 98

امام رازی نے اس آیت کے شان نزول کے بارے میں کئی اقوال نقل کئے ہیں جن میں سے ایک قول یہ بھی ہے گویا یہ شان نزول متفق علیہ نہیں ہے۔ قال :نبی کی نبوت کا دوسرا گواہ ۔(ص58) اقول :یہ بھی گواہ نہیں بن سکتا۔ اولاً: علی تقدیر یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی یا بقول مقرر امیر عمر رضی اللہ عنہ نے بطور دلیل یہ آیت پیش کی تھی؟بہرحال سیدنا عمر کا عمل قرآنی عمل سے ثابت اور برحق ہوا وگرنہ شریعت کے قانون کے مطابق آپ سے قصاص کا مطالبہ ہورہا تھا۔ ثانیا:اس گواہی میں نبوت کے ثبوت کے بجائے نبوت پر سخت نقص لازم آرہا ہے کیونکہ اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایسا نہ کرتے تو نبوی فیصلہ غلط رہتا۔(نعوذ بالله من ذلك) ثالثا: بقول مقرر صاحب امیر عمر رضی اللہ عنہ کو بحیثیت مجرم بلایا گیا مذکورہ صورت میں امیر عمر رضی اللہ عنہ گواہ بنے یا اپنی برأت پیش کی ۔ برعکس نام زنگی رامی نھند کافور۔ رابعا: بقول مقرر صاحب عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن کی آیت پیش کی یہ گواہی قرآن کی طرف سے ہوگی یا عمر کی طرف سے ؟بلکہ انہوں نے تو بقول تمہارے قرآن کی آیت پیش کرکے اپنی جان چھڑائی ۔الغرض اس اعتبار سے بھی یہ گواہ نہیں بنیں گے جب بنیاد ہی جھوٹی روایت پر رکھی گئی ہے تو پھر اس پر ایسی ہی عمارت قائم ہوگی۔ خشت اول چون نھد معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج قال :تیسرا گواہ ’’رُحَمَآءَ بَیْنَهُمْ ‘‘ (ایک دوسر پر رحم کرنے والے) (ص58) اقول :خود مقرر صاحب ترجمہ کررہے ہیں کہ ایک دوسرے پر رحم کرنے والے تو پھر

  • فونٹ سائز:

    ب ب