کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 99
صیغہ جمع کو فرد واحد کے لئے خاص کرنا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے؟ قال:سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف لوگوں نے بغاوت کر دی ایک خاص جرم آپ کی طرف منسوب کیاگیا اور آپ سے خلافت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیاگیا (ص58) اقول :سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا اس دعوی سے کیا تعلق؟اگر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ قتل نہ ہوتے تو کیا یہ دعوی ثابت نہ ہوتا؟اور جن باغیوں نے آپ رضی اللہ عنہ کا گھراؤ کیاتھا کیا وہ اس دعوی یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قائل نہ تھے؟جبکہ صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ : عن عبیداللہ بن عدی بن خیار انہ دخل علی عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ وہو محصور فقال انک امام عامة و نزل بک مانری و یصلی لنا امام فتنة و نتحرج فقال الصلاة احسن ما یعمل الناس فاذا احسن الناس فاحسن معہم و اذا ساؤا فاجتنب اسائہم. (البخاری باب امامة المفتون المبتدع کتاب الصلاة ) سیدنا عبداللہ بن عدی بن خیار کہتے ہیں کہ جس وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ باغیوں کے حصار میں تھے تو میں ان کے پاس آیا اور عرض کی کہ آپ تو تمام مسلمانوں کے امام ہیں ، اور جس مصیبت میں آپ رضی اللہ عنہ مبتلا ہیں اس سے بخوبی آگاہ ہیں اب فتنہ پرداز لوگوں میں سے ایک ہمیں نماز پڑھاتا ہے اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے ہم گناہ گار نہ ہوجائیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگ جو کام سر انجام دے رہے ہیں ان میں نماز سب سے بہترین عمل ہے لہذا جب وہ اچھا کام کریں تو تم بھی ان کے ساتھ مل کر اچھا کام کرو اور جب وہ برائی کا ارتکاب کریں تو تم ان سے الگ ہوجاؤ۔