کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 100
مطلب صرف یہی ہے کہ ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کھیت والے ہیں لہٰذا انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کو یاد رکھا کہ کھیتی کا کتا بھی استثناء میں شامل ہے۔ ایک اور روایت میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ تبصرہ (یرحم اللّٰہ أبا ھریرۃ کان صاحب زرع) 23کے الفاظ میں نقل ہوا ہے۔ اگر عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا مقصود اس تبصرے سے یہ ہوتا کہ ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ نے یہ استثناء اپنے مفاد کے لیے گھڑ لیا ہے تووہ ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ کے لیے دعائیہ کلمات کیوں کہتے؟ ان الفاظ کا معنی ومفہوم یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے! وہ کھیتی والے تھے۔ لہٰذا انہوں نے کھیتی کے استثناء کو یاد رکھا۔ یہ تو ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ پر الزام کی بجائے ان کے حق میں تعریفی کلمات ہیں جنہیں گولڈ زیہر نے کمال فن سے اعتراض بنانے کی کوشش کی ہے۔ مصطفی الاعظمی کے علاوہ نور الدین نے بھی اپنے مقالے بعنوان"Authenticity of Hadith Literature: With Special Reference to Orientalists Views" میں گولڈ زیہر، جوزف شاخت اور روبسن وغیرہ کے حدیث پر اعتراضات کا جائزہ لیا ہے۔ جوزف شاخت (Josef Schacht) جوزف شاخت Josef Schacht )۱۹۰۲۔۱۹۶۹ء) جرمن؍برطانوی مستشرق ہے۔ وہ ایک کیتھولک فیملی میں پیدا ہوا اور جرمنی میں ہی اس نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے اساتذہ میں گاٹ ہیلف کا نام ملتا ہے۔ وہ آکسفورڈ، لائیڈن اور کولمبیا یونیورسٹی میں عربی اور اسلامیات کا پروفیسر رہا ہے۔اہل مغرب میں حدیث اور فقہ اسلامی میں تخصص کی وجہ سے معروف ہے۔ حدیث کے بارے میںاس نے اپنا نقطہ نظر اپنی کتاب ’’محمدی فقہ کے مصادر‘‘ (Origins of Muhammadan Jurisprudence)میں پیش کیا جو ۱۹۵۰ء میں شائع ہوئی۔ ۱۹۶۴ء میں فقہ اسلامی کے بارے میں اس کی کتاب ’’فقہ اسلامی کا تعارف‘‘ (An Introduction to Islamic Law) شائع ہوئی۔ حدیث میں اس نے 'Common Link Theory'کا تصور پیش کیا ۔ شاخت حدیث کے بارے میںاپنے پیش رَو گولڈ زیہر کے افکار سے متاثر ہے۔