کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 104
ایک شاگرد کو اپنے ایک استاذ سے ۸۰ روایات لینے میں کتنا وقت درکار ہوگا؟اگر امام مالک رحمہ اللہ نے روزانہ ایک روایت اوسطاً امام نافع رحمہ اللہ علیہ سے سیکھی ہو تو یہ ۸۰ دن بمشکل تین ماہ بنتے ہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ علیہ کی سن پیدائش کے بارے میں بعض علماء کا کہنا ہے کہ یہ ۹۰ھ ہے یا بعض نے ۹۴ھ کا بھی ذکر کیا ہے۔ بعض کے نزدیک یہ ۹۶ ھ میں ہے جبکہ ایک قول ۹۷ھ کا بھی ہے۔ لیکن کوئی ایسا قول موجود نہیں ہے جس میں ۹۷ھ کے بعد میں ان کی پیدائش نقل کی گئی ہو۔ پس اگر اس اختلاف میں صحیح ترین قول کی بجائے آخری قول کو بھی لیا جائے تو اس کے مطابق بھی امام نافع رحمہ اللہ کی وفات کے وقت امام مالک رحمہ اللہ کی عمر تقریباً ۲۰ سال بنتی ہے35 اور اگر انہیں تین ماہ کے لیے بھی امام نافع رحمہ اللہ کی شاگردی حاصل ہوئی ہو تو وہ بڑی آسانی سے یہ ۸۰ روایات ان سے نقل کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر عجیل جاسم النشمی نے اپنی کتاب ’’المستشرقون ومصادر التشریع الإسلامی‘‘ میں گولڈ زیہر اور جوزف شاخت کے وضع حدیث کے نقطہ نظر پر مفصل نقد کیا ہے جبکہ ڈاکٹر سعد المرصفی نے بھی اپنی کتاب ’’المستشرقون والسنۃ‘‘میں ان دونوں کے افکار کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ فہد الحمودی نے جوزف شاخت کے نظریہ حدیث پر "On the Common-Link Theory" کے عنوان سے ۲۰۰۶ء میں پی ایچ ڈی مکمل کی ہے۔ نابیہ ایبٹ (Nabia Abbott) نابیہ ایبٹ Nabia Abbott (۱۸۹۷۔۱۹۸۱ء) امریکن مستشرق ہے جو یونیورسٹی آف شکاگو میں مشرقی علوم کی پہلی پروفیسر تھیں۔ وہ ۱۸۹۷ء میں ترکی میں ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایک تاجر تھے لہٰذا وہ اپنے والد کے ساتھ کچھ عرصہ عراق اور پھر انڈیا میں رہیں جہاں انہوں نے لکھنوسے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ مسلمان خواتین کی تاریخ پر ان کا کافی کام موجود ہے۔سیرتِ عائشہ رضی اللہ عنہاپر ان کی کتاب "Aishah, the Beloved of Muhammad" کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ ان کے نمایاں تحقیقی کاموں میں تین جلدوں میں ان کی کتاب "Studies in Arabic Literary Papyri" ہے جو ۱۹۵۷ء، ۱۹۶۷ء اور ۱۹۷۲ء میں شائع ہوئیں۔