کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 114
باب پنجم سیرت اور مستشرقین سیرت کے بارے میںمستشرقین کے نقطہ نظر اور رویوں کو دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، ذیل میں ہم ان کے بارے کچھ بحث کر رہے ہیں: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے قرون وسطیٰ کے مغربی اسکالرز کا موقف پہلا دور قرونِ وسطیٰ (Middle Ages) کے مستشرقین کا ہے جوپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جعل ساز، مکار، فریبی اور جھوٹا نبی (Impostor)تک قرار دیتے ہیں، معاذ اللہ! دوسرے دور کا آغاز انیسویں صدی کے وسط سے ہوتا ہے۔ اس دور میں عام طورپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاص پر تو کسی شک کا اظہار نہیں کیا گیا، لیکن آپ کے دعوائے نبوت کو معصومانہ وہم (Innocent Delusion) قرار دیا گیااور اس کا تعلق کسی نوع کے نفسیاتی خلل (Psychological Disorder) سے قائم کر دیا گیا۔ پہلے دور کا آغاز پادری یوحنا دمشقی Saint John of Damascus (۶۷۶۔۷۴۹ء) سے ہوتا ہے جبکہ ڈاکٹر محمد مہر علی (Mohar Ali) نے دوسرے دور کا آغاز تھامس کارلائلThomas Carlyle (۱۷۹۵۔۱۸۸۱ء)کو قرار دیا ہے۔ 1 اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے بارے میں مستشرقین کے پہلے دور کا رویہ ایسا ہے کہ معاصر مغرب کو بھی اس پر افسوس ہے۔ معروف مستشرق ڈاکٹر فلپ کے ہٹی Philip Khuri Hitti )۱۸۸۶۔۱۹۷۸ء) نے اپنی کتاب "Islam and the West" مطبوعہ ۱۹۶۲ء میں 'Islam in Western Literature' کے نام سے باقاعدہ ایک باب باندھ کر اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قرونِ وسطیٰ کے مستشرقین کے بے ہودہ الزامات اور بے سروپا کہانیاں نقل کی ہیں۔ اس باب کا ترجمہ مولانا وحید الدین خان نے اپنی کتاب ’’شاتم رسول کا مسئلہ‘‘ میں نقل کیا ہے۔ یوحنا دمشقی(متوفی ۷۴۹ء) وہ پہلا عیسائی عالم ہے کہ جس نے اسلام پر یہ طعن کیا کہ اسلام بت پرستی کی تعلیم دیتا ہے اور اس میں ایک جھوٹے رسول کی پرستش کی جاتی ہے۔ اس کے بعد دانتے Dante Alighieri(متوفی ۱۳۲۱ھ) نے اپنی مشہور نظم خدائی کامیڈی (Divine Comedy) میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو نوویں جہنم میں دکھایا ہے۔ قرطبہ کے ایک بشپ ایولوگیس (Saint Eulogius of Cَrdoba) نے لکھا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کے جسم کو کھانے کے لیے جنگلی کتے آئے اور یہی وجہ ہے کہ مسلمان کتوں کو ناپاک قرار دیتے ہیں۔ یہ افسانہ پہلے لاطینی زبان میں شائع ہوا اور بعد میں فرانس میں پہنچا تو ایک فرانسیسی شاعر نے اپنی ایک نظم میں یہ نقشہ کھینچا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کے جسم کو جنگلی کتے اور سور دونوں کھانے آ رہے ہیں2۔معاذ اللہ! ثم معاذ اللہ! اسی طرح یہ کہانی بھی اہل مغرب میں صدیوں گردش کرتی رہی کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا تابوت زمین اور آسمان کے مابین معلق ہے، کیونکہ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے۔ ایک اور افسانہ تو اس قدر معروف ہوا کہ انگریزی ادب میں شامل ہو گیا اور وہ یہ کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کبوتر کو تربیت دے رکھی تھی جو ہر وقت آپ کے کندھے پر بیٹھا رہتا اور وقفے وقفے سے جب آپ کے کان میں پڑا ہوا دانہ چگنے کے لیے چونچ مارتا تو آپ فرماتے کہ روح القدس اس کے ذریعے مجھے الہام کر رہے ہیں۔ ولیم شیکسپیئرWilliam Shakespeare )۱۵۶۴۔۱۶۱۶ء) نے اپنے ایک کردار کی زبانی اس قصے کو نقل کیا ہے۔ ولیم شیکسپیئر سے بہت پہلے برطانوی شاعر جان لڈ گیٹ John Ludgate (۱۳۷۰۔۱۴۵۱ء) تو اس کبوتر کے رنگ سے بھی واقف تھاکہ اس کا رنگ دودھیا سفید تھا۔ یہ واضح رہے کہ عیسائیوں کے ہاں کبوتر روح القدس کی علامت ہے مگر اسلام میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ معروف انگریز ادیب فرانسس بیکنFrancis Bacon)۱۵۶۱۔۱۶۲۶ء) نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو عطائی (mountebank)قرار دیاتوسیور ڈوریر (Sieur du Ryer) نے فرانسیسی میں محمد کا قرآن"The Alcoran of Mahomet" کے نام سے ترجمہ قرآن شائع کر کے اسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی تصنیف قرار دیا۔3