کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 122
he began to form a system of faith of his own; and this is the third phase of the transition period. 19 سپرنگا نے قرآن مجید کے حوالہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فکری ارتقاء کے بارے جو تین مراحل بیان کیے ہیں، ان کی کوئی بنیاد قرآن مجید میں سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ اور نہ ہی سپرنگا قرآن مجید کے متن سے اپنے ان مراحل کو ثابت تو کجا پیش بھی کر سکا ہے۔ اس کے ان مراحل کا کل ماخذ اس کا متعصب ذہن ہے۔ سپرنگا کے موقف کے برعکس حقیقت حال یہ ہے کہ یہود ونصاریٰ اور تورات وانجیل کے باب میں قرآن مجید کا جو موقف مکی سورتوں میں ہے، وہی مدنی سورتوں میں بھی بیان ہوا ہے۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم خطائے حس (halucinations) کے عارضہ میں مبتلا تھے اور انہیں اپنے اس عارضہ کا اس شدت سے احساس تھا کہ انہوں نے کئی مرتبہ مایوس ہو کر خودکشی کی بھی کوشش کی۔ اس کے الفاظ ہیں: He suffered of halucinations of his senses; and, to finish his sufferings, he several times contemplated suicide, by throwing himself down from a precipice. His friends were alarmed at his state of mind. Some considered it as the accentricities of a poetical genius; others thought that he was a Kahin, soothsayer; but the majority took a less charitable view, and declared that he was insane; and, as, madness and melancholy are ascribed to supernatural influence in the east, they said that he was in the power of Satan and his agents, the jinn. 20 ہمارا جواب یہ ہے کہ یہ سب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مطہرہ پر بہتان ہے اور اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہے۔ جہاں تک خودکشی کے بہتان کا معاملہ ہے تو اس کا پس منظر صرف اتنا ہے کہ پہلی وحی کے نزول کے بعد اللہ کے حکم سے وحی کچھ عرصہ کے لیے رکی رہی اور اسے فترتِ وحی (Intermission of Revelation) کا زمانہ کہتے ہیں۔ وحی کے نزول میں اس عارضی رکاوٹ نے آپ کی طبیعت میں اس قدر اضطراب اور بے چینی پیدا کر دی کہ بعض اوقات آپ یہ سوچتے کہ وحی کے بغیر زندگی کا کیا فائدہ؟ اس سوچ اور