کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 123
فکر کا سبب نزول وحی کا شوق تھا نہ کہ کسی قسم کی مایوسی۔ 21 اسی طرح سپرنگا نے آپ کی ذات پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے یہ کہنا کہ کہ نرم دل تھے، درست نہیں ہے۔ اس کے بقول آپ اتنے سخت دل تھے کہ انہوں نے ایک قبیلے کے بعض لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ کرانہیں کھلے میدان میں دھوپ میں پھینک دیا اور وہ بھوکے پیاسے مر گئے۔ اس کے الفاظ ہیں: His actions were, in some instances, as cruel as his poetry: some apostates from his faith were sentenced by him to have their hands and feet cut off, and their eyes pierced with hot iron. In this condition they were thrown on the stony plains of Maydynah. They asked for water, and it was refused to them; and so they died. Such instances of cruelty are the more characteristic of his fanaticism, as he was naturally mild, and even soft. 22 ہمارا جواب یہ ہے کہ اس اعتراض کی حقیقت یہ ہے کہ عُکل اور عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں مدینہ میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کی۔ انہیں مدینہ کی آب وہوا راس نہ آئی اور ان کے پیٹ خراب ہو گئے۔ آپ نے انہیں مدینہ سے باہر بیت المال کے اونٹوں کی ایک چراگاہ میں بھیج دیا۔ ایک روایت کے مطابق یہ آٹھ کے قریب افراد تھے۔ انہوں نے وہاں قیام کیا تو صحت مند ہو گئے۔ انہوں نے صحت یاب ہونے کے بعد اس چراہ گاہ کے نگران صحابی کو اس طرح بے دردی سے قتل کیاکہ ان کی آنکھوں میں لوہے کی گرم سلاخیں پھیریں، انہیں بھوکا پیاسا پھینک دیا اور بیت المال کے اونٹ ہانک کر بھگالے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ نے ان کے پیچھے تقریباً بیس صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کو بھیجا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے انہیں پکڑا اور مدینہ لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کا قصاص لیتے ہوئے اور بیت المال کے اونٹوں کی لوٹ مار کی سزا کے طور انہیں قتل کرنے کا حکم دیا۔ اور اُسی طرح قتل کرنے کا حکم دیا جس طرح انہوں نے چراگاہ کے نگران صحابی کو قتل کیا تھا23۔ عُکل اور عرینہ قبیلے کے ان لوگوں کے اس جیسے افعال کوقرآن مجید نے بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ،