کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 128
religion has had a widespread appeal, not only in his own age but in succeeding centuries. Not all the ideas he proclaimed are true and sound, but by God's grace he has been enabled to provide millions of men with a better religion than they had before they testified that there is no god but God and that Muhammad is the messenger of God. 34 منٹگمری واٹ وہ پہلا مصنف ہے جس نے سیرت پر مستشرقین کو یہ منہج دیا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریفیں خوب کرو لیکن انہیں رسول مت مانو۔ آج سادہ لوح مسلمانوں کی ایک جماعت ایسے مستشرقین کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کلمہ خیر کو بڑے فخر سے بیان کرتی ہے، لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ مستشرقین ایک باقاعدہ سوچی سمجھی سکیم کے تحت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف بیان کر رہے ہوتے ہیں کہ اس ذریعے وہ مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کر کے ان کے دل میں آپ کی پیغمبری کے بارے شک کا بیج بو دیں۔ ان کا مقصد یہ بھی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک عظیم مفکر، مصلح، مخلص اور محنتی انسان کے طور دنیا میں متعارف کروا دو اور دنیا انہیں بس اتنا ہی سمجھے اوراس سے بڑھ کر ان کی پیغمبرانہ حیثیت کو کسی صورت بھی قبول نہ کرے۔ پروفیسر ڈاکٹر جبل محمد نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالہ "Image of the Prophet Muhammad in the West: A Study of Muir, Margoliouth and Watt" میں ولیم میور، مارگولیتھ اور منٹگمری واٹ کے اعتراضات کا مفصل جواب دیا ہے35۔ علاوہ ازیں عبد اللہ محمد الأمین النعیم نے بھی اپنی کتاب ’’الاستشراق فی السیرۃ النبویۃ‘‘ اور ڈاکٹر لخضر شایب نے ’’نبوۃ محمد فی الفکر الاسشتراقی‘‘میں واٹ کے نظریات کا مفصل رد پیش کیا ہے۔ مصادر ومراجع 1- Mohammad Mohar Ali, Sirat al-Nabi and The Orientalists, Madinah: King Fahad Complex, 1997, page. VII-VIII. ۲۔ وحید الدین خان، شاتم رسول کا مسئلہ: قرآن وحدیث اور فقہ وتاریخ کی روشنی میں، گڈورڈ بکس،