کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 132
باب ششم تاریخ اور مستشرقین مستشرقین نے علوم اسلامیہ کی دیگر شاخوں کے ساتھ تاریخ اسلام کو بھی موضوع بحث بنایا ہے اور اس میدان میں بھی ان کی تحقیق کا ایک بڑا حصہ بہتان،جھوٹ اور بے سروپا کہانیوں پر مبنی ہے تا کہ دین اسلام کی تصویر کو مسخ کیا جا سکے۔ فرانسیسی مستشرق پال کیزانووا Paul Casanova (۱۸۶۱۔۱۹۲۶ء) کا دعویٰ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے کسی کو اس لیے اپنا خلیفہ مقرر نہیں کیا تھا کہ آپ کو یقین تھا کہ آپ کی وفات کے ساتھ ہی قیامت قائم ہو جائے گی اور یہ دنیا ختم ہو جائے گی۔ اس کا کہنا یہ بھی ہے کہ جب آپ کی وفات کے ساتھ دنیا ختم نہ ہوئی تو ابوبکر صدیق کو قرآن مجید میں دو آیات ﴿ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ۭ اَفَا۟یِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ ۭ وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ ﴾(آل عمران: ۱۴۴) اور ﴿ اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّہُمْ مَّیِّتُوْنَ 30؀ۡ ]الزمر:۳۰) کا اضافہ کرنا پڑا۔ اسی طرح جرمن مستشرق کارل بروکلمان Carl Brockelmann (۱۸۶۸۔۱۹۵۶ء) نے کہا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ساتھ ہی مسلمانوں کا باہمی بغض وعناد پھٹ پڑا اور وہ باہم دست وگریبان ہو گئے۔ جرمن مستشرق جولیوس ویلہاؤزن Julius Wellhausen (۱۸۴۴۔۱۹۱۸ء)کا کہنا یہ ہے کہ آپ کی وفات کے ساتھ ہی دینداری ختم ہو گئی، قبائل مرتد ہو گئے اور کوئی نظم نہ ہونے کی وجہ سے جس کے ہاتھ اقتدار لگا، اس نے اس پر قبضہ جما لیا۔ 1 ذیل میں ہم ان معروف مستشرقین کے احوال اور نظریات کا جائزہ لے رہے ہیں جو تاریخ اسلامی میں بحث وتحقیق کے حوالے سے معروف ہیں۔