کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 136
بروکلمان کی یہ کتاب اسلام کے خلاف جھوٹ اور بہتان سے بھری پڑی ہے۔ بیت اللہ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے حجر اسود کے بارے بروکلمان یہ کہتا ہے کہ یہ اس علاقے کا قدیم ترین بت ہے کہ جس کی عبادت کی جاتی رہی11۔ بروکلمان یہ کہنا چاہتا ہے کہ اسلام میں بھی اس بت کے اس مقام کو برقرار رکھا گیا ہے۔ یہ بات تاریخ عرب کا ایک ادنی سا طالب علم بھی جانتا ہے کہ مشرکین نے کبھی بھی حجر اسود کی عبادت نہیں کی جیسا کہ وہ لات، منات ، عزی اور ہبل وغیرہ کو پوجتے تھے۔ حجر اسود ان کے باطل معبودوں میں کبھی بھی نہیں رہا۔ رہی بات حجر اسود کے بوسہ لینے کی تو یہ ہر گز اس کی پوجا کے مترادف نہیں ہے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حجر اسود کا بوسہ لیتے ہوئے یہ الفاظ کہے: ’’واللہ إنی لأقبلک، وإنی أعلم أنک حجر، وأنک لا تضر ولاتنفع، ولولا أنی رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلک ما قبلتک ‘‘12 ’’اللہ کی قسم! میں تمہیں بوسہ دے رہا ہوں جبکہ میں خوب جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے، اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تو نہ تو کوئی نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی