کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 140
’’میں [زہری] عبد الملک بن مروان کے پاس آیا تو اس نے مجھے کہا: تم کہاں سے آئے ہو؟ میں نے جواب دیا: مکہ سے ہوں۔ اس نے کہا: اپنے پیچھے مکہ کی سیادت کس کے ہاتھ چھوڑ کر آئے ہو؟ میں نے جواب دیا: عطاء بن ابی رباح کے پاس۔ اس نے کہا: وہ عرب ہیں یا موالی میں سے ہیں؟ میں نے جواب دیا: موالی میں سے ہیں۔ اس نے کہا: وہ کس وجہ سے سیادت کے اہل ہیں؟ میں جواب دیا: دیانت اور روایت میں اہلیت کی بنیاد پر۔ اس نے کہا: بلاشبہ یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں کہ جس کی بنیاد پر سیادت ملنی چاہیے۔ اس نے کہا: اہل یمن کی سیادت کس کے پاس ہے؟ میں نے جواب دیا: طاؤس بن کیسان کے پاس۔ اس نے کہا: وہ عرب ہیں یا موالی میں سے ہیں؟ میں نے جواب دیا: موالی میں سے ہیں۔ اس نے کہا: وہ کس وجہ سے سیادت کے اہل ہیں؟ میں نے جواب دیا: جس وجہ سے عطاء بن ابی رباح ہیں۔ اس نے کہا: وہ اس لائق ہیں۔ اس نے کہا: اہل مصر کی سیادت کس کے پاس ہے؟ میں نے جواب دیا: یزید بن ابی حبیب کے پاس۔ اس نے کہا: وہ عرب ہیں یا موالی میں سے ہیں؟ میں نے جواب دیا: موالی میں سے