کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 141
ہیں۔ اس نے کہا: اہل جزیرہ کی سیادت کسی کے پاس ہے؟ میں نے جواب دیا: میمون بن مہران کے پاس۔ اس نے کہا: وہ عرب ہیں یا موالی میں سے ہیں؟ میں نے جواب دیا: موالی میں سے ہیں۔اس نے کہا: اہل بصرہ کی سیادت کس کے پاس ہے؟ میں نے کہا: الحسین بن ابی الحسین کے پاس۔ اس نے کہا: وہ عرب ہیں یا موالی میں سے ہیں؟ میں نے جواب دیا: موالی میں سے ہیں۔ اس نے کہا: ستیاناس ہو، اہل کوفہ کی سیادت کس کے پاس ہے؟ میں نے جواب دیا: ابراہیم نخعی کے پاس۔ اس نے کہا: وہ عرب ہیں یا موالی میں سے ہیں؟ میں نے جواب دیا: عرب میں سے ہیں۔ اس نے کہا: ستیاناس ہو، تم نے مجھے خوش کر دیا۔ اللہ کی قسم! یہ موالی ، عربوں پر غالب آ جائیں گے۔ یہ منبروں پرخطبے دیں گے اور عرب ان کے سامنے بیٹھ کر سنیں گے۔میں نے کہا: امیر المؤمنین! یہ اللہ کے دین کا معاملہ ہے۔ جس نے اس کی حفاظت کی، اسے سیادت ملے گی اور جس نے اسے ضائع کیا، اس کا مقام گر جائے گا۔‘‘ فیلپ خوری ہٹی (Philip Khuri Hitti) فیلپ خوری ہٹی Philip Khuri Hitti (۱۸۸۶۔۱۹۷۸ء) لبنانی عیسائی اسکالر ہے جس نے ’مطالعہ عرب ثقافت‘ کاموضوع امریکہ میں متعارف کروایا۔ امریکن یونیورسٹی آف بیروت سے تعلیم حاصل کی اور فراغت کے بعد یہاں سے ہی اپنی تدریس کا آغاز کیا۔ اس نے ۱۹۱۵ء میں کولمبیا یونیورسٹی، امریکہ سے سامی زبانوں کے موضوع پر پی ایچ ڈی حاصل کی۔ ۱۹۲۶ء سے لے کر ۱۹۵۴ء تک پرنسٹن یونیورسٹی ، امریکہ میں سامی (Semitic) ادب کے پروفیسر اور مشرقی زبانوں کے شعبہ کے چیئرمین رہا۔ اس کی معروف کتب میں "History of the Arabs" ہے جو پہلی مرتبہ ۱۹۳۷ء میں شائع ہوئی۔ علاوہ ازیں کتب میں "The Arabs: A Short History" اور "History of Syria: including Lebanon and Palestine" اور"Lebanon in History" اور "The Near East in History" اور "Islam and the West" اور "Makers of Arab History" اور "Islam: A Way of Life" اور "Capital cities of Arab Islam" ہیں جو بالترتیب ۱۹۴۳ء، ۱۹۵۷ء ، ۱۹۵۷ء، ۱۹۶۱ء، ۱۹۶۲ء، ۱۹۶۸ء، ۱۹۷۰ء، ۱۹۷۳ء میں شائع ہوئیں۔23