کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 144
external influences (including the Old Testament materials) can be traced back to Syriac Christianity. 28 اور کبھی وہ قرآن کی تعریف میں رطب اللسان ہوتا ہے اور اس کی زبان کو ایک معجزہ قرار دیتا ہے۔ ایک جگہ کہتا ہے: The Meccans still demanded of him a miracle, and with remarkable boldness and self confidence Mohammad appealed as a supreme confirmation of his mission to the Koran itself. Like all Arabs they were the connoisseurs of language and rhetoric. Well, then if the Koran were his own composition other men could rival it. Let them produce ten verses like it. If they could not (and it is obvious that they could not), then let them accept the Koran as an outstanding evident miracle. 29 قرآن مجید کی زبان واسلوب بیان کی تعریف کے باوجود وہ اسے خدائی کلام ماننے پر آمادہ نہیں ہے۔ ’’موسوعۃ المستشرقین‘‘ کے مؤلف ڈاکٹر عبد الرحمن بدوی کا کہنا یہ ہے کہ ہاملٹن کا اتنا علم نہیں ہے جتنا یہ معروف ہو گیا ہے اور اس کی شہرت کے اسباب بھی اس کے علمی کام کے علاوہ اس کی کچھ حرکات ہیں30. ہاملٹن گِب کے افکار کا محاکمہ ڈاکٹر ناصر عبد الرزاق الملا جاسم نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے ’’المستشرق ھاملتون جب: دراسۃ نقدیۃ لتطور موافقہ من التاریخ والحضارۃ العربیۃ الإسلامیۃ‘‘میں کیا ہے۔ علاوہ ازیں جامعہ ازہر سے سعید سلیم محمد رضوان نے بھی ’’شبھات المستشرق ھاملتون حول الإسلام من خلال کتابہ فی حضارۃ الإسلام وتفنیدھا‘‘ میں بھی ہاملٹن کے افکار کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ برنارڈ لیوس (Bernard Lewis) برنارڈ لیوس Bernard Lewis (پیدائش ۱۹۱۶ء) برطانوی نژاد امریکی یہودی مستشرق ہے جو پرنسٹن یونیورسٹی میںاعزازی پروفیسرہے اور ابھی تک حیات ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں برطانوی شاہی بکتربند کور (Royal Armoured Corps) میں ایک سپاہی کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ جنگ سے واپسی پر ۱۹۴۹ء میں یونیورسٹی آف لندن میں School of Oriental and African Studies میں مشرق قریب اور مشرق وسطی کی تاریخ Near and Middle Eastern History کا استاذ مقرر ہوا۔31 ۱۹۳۶ء میں اس نے یونیورسٹی آف لندن سے مشرق وسطی کی تاریخ پر بی اے کی ڈگری حاصل کی اور اس کے تین سال بعد ہی تاریخ اسلام میں اسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کر لی تھی۔ ۱۹۳۷ء میں یونیورسٹی آف پیرس سے پوسٹ گریجویشن کی تعلیم کی حیثیت سے منسلک ہوا لیکن ایک ہی سال بعد ۱۹۳۸ء میں یونیوسٹی آف لندن کو اسسٹنٹ لیکچرر کے طور جوائن کر لیا۔ ۱۹۷۴ء میں پرنسٹن یونیورسٹی، امریکہ سے منسلک ہوا۔ ۱۹۸۶ء میں یہاں سے ریٹائرمنٹ کے بعد اس نے کارنل یونیورسٹی (Cornell University) کو جوائن کیا۔32 ۱۹۶۶ء میں اس نے شمالی امریکہ کی علمی سوسائٹی Middle East Studies Association of North America ((MESA کو بطور تاسیسی ممبر کے جوائن کیا لیکن ۲۰۰۷ء میں اس نے اس تنظیم کو چھوڑ کر اپنی نئی تنظیم Association for the (Study of the Middle East and Africa (ASMEAکے نام سے بنا لی کیونکہ پہلی تنظیم میں ایسے امریکن اسکالرز کی کثرت تھی جو مشرق وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی کردار پر شدید نقد کرتے تھے جبکہ برنارڈ لیوس امریکی اور اسرائیلی حکومت کا پُرزور حمایتی تھا۔33 ۱۹۹۰ء میں اس نے امریکی وفاقی حکومت کے تحت اپنے مشہور زمانہ لیکچرز دیے جو بعد ازاں "The Roots of Muslim Rage" کے نام سے شائع ہوئے۔ اس کی کتب میں The Origins of Ismailism (1940) اور The Arabs in History (1950) اور Istanbul and the Civilizations of the Ottoman Empire (1963 اور The Middle East and the West (1964) اور The Assassins: A Radical Sect in Islam (1967) اور History - Remembered, Recovered, Invented (1975) اور The Muslim Discovery of Europe (1982) اور