کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 154
باب ہفتم فقہ اسلامی اور مستشرقین قرآن، حدیث، سیرت اور تاریخ کے علاوہ مستشرقین نے فقہ اسلامی کو بھی اپنی تحقیقات کا موضوع بنایا ہے۔ شروع میں تو بعض فقہی کتب کے عربی سے انگریزی اور دیگر زبانوں میں تراجم کیے گیے جبکہ بعد ازاں اسلامی قانون کے بارے مستشرقین نے اپنے نقطہ ہائے نظر بھی بیان کرنا شروع کر دیے۔ بلاشبہ مغرب میں موجود قانون کی جمیع اقسام اور صورتوں کا ماخذ ’رومی قانون‘ (Roman Law) ہے جبکہ مشرق میں ’اسلامی قانون‘ کو ایک بنیادی مصدر کی حیثیت حاصل رہی ہے جس وجہ سے مغرب ’اسلامی قانون‘ کو اپنا حریف خیال کرتا ہے۔ پس مستشرقین کی ایک جماعت نے اسلامی قانون کو خاص طور اپنی تحقیقات کا موضوع بنایا تا کہ اس کے بارے تشکیک وشبہات وارد کر کے اس کی اہمیت کو کم کر سکیں۔ مستشرقین کی ایک جماعت کا دعویٰ تو یہ ہے کہ ’اسلامی قانون‘ بھی ’رومی قانون‘ ہی سے ماخوذ ہے۔ السید الدسوقی عید نے ’’استقلال الفقہ الإسلامی عن القانون الرومانی والرد علی شبہ المستشرقین‘‘ کے نام سے ایک کتاب اس فکر کے رد میں مرتب کی ہے۔ ذیل میں ہم فقہ اسلامی پر کام کرنے والے چند ایک معروف مستشرقین کا تعارف اور ان میں سے بعض کے موقف کاتجزیہ پیش کر رہے ہیں۔ ڈنکن بلیک میکڈونلڈ (Duncan Black Macdonald) ڈنکن میکڈونلڈ Duncan Black Macdonald (۱۸۶۳۔۱۹۴۳ء) ایک امریکی مستشرق اور پروٹسٹنٹ عیسائی ہے۔ اس نے سامی زبانوں کی تعلیم گلاسگو اور برلن یونیورسٹی میں حاصل کی۔ اس کی دلچسپی مسلم الہٰیات (Muslim Theology) میں تھی جس سے اس کی توجہ ’’ألف لیلۃ ولیلۃ‘‘ (One Thousand and One Nights)کی طرف ہوئی اور اس نے اس کتاب کو ایڈٹ کر کے شائع کرنا شروع کیا۔ 1 میکڈونلڈ نے مسلم عیسائی تعلقات پر بھی کافی کچھ لکھا اور اس نے مشرق وسطیٰ میں عیسائیت کی تبلیغ کے لیے کئی ایک پروٹسٹنٹ مشنری بھی بھیجیں۔ اس کی کتابوں میں ہمیں "The Religious Attitude and Life in Islam" اور "The Life of Al-Ghazzali" اور "Aspects of Islam" کے نام ملتے ہیں۔ فقہ اسلامی کے حوالے سے اس کی کتاب کا نام "Development of Muslim Theology, Jurisprudence and Constitutional Theory" ہے جو ۱۹۰۳ء میں شائع ہوئی ہے۔2 اس نے انسائیکلو پیڈیا آف بریٹینیکا (Encyclopوdia Britannica) کے ۱۹۱۱ء کے ایڈیشن میں امام ابوحنیفہ، امام احمد بن حنبل، امام بخاری، قاضی، مفتی اور دیوان وغیرہ کے عنوان سے کئی ایک مقالے بھی لکھے ہیں۔ ڈاکٹر عجیل جاسم النشمی نے اپنی کتاب ’’المستشرقون ومصادر التشریع الإسلامی‘‘ میں اس کے بعض افکار پر نقد کی ہے۔