کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 155
گاٹ ہیف بیگش ٹراسا (Gotthelf Bergstrasser) گاٹ ہیف بیگش ٹراسا Gotthelf Bergstrasser (۱۸۸۶۔۱۹۳۳ء) جرمن مستشرق اور پروٹسٹنٹ عیسائی ہے اور سامی زبانوں کے ایک ماہر کی حیثیت سے معروف ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران وہ جرمنی کی طرف سے ترکی میں بطور آفیسر کام کرتا رہا اور اس دوران قسطنطینیہ یونیورسٹی (University of Constantinople) میں ایک پروفیسر کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیں۔ اس کی آخری جوائنگ ۱۹۲۶ء میں یونیورسٹی آف میونخ میں سامی زبانوں کے پروفیسر کی حیثیت سے تھی۔ ترکی میں قیام کے دوران ہی اس نے شام اورفلسطین کے سفر کے دوران عربی اور آرامی زبان سیکھی۔ وہ علی الاعلان نازی ازم کے خلاف تھااور اس نے جرمن یہودی اسکالرز کی حفاظت کے لیے کافی اقدامات کیے۔"3 اس کی معروف کتاب "Introduction to the Semitic Languages" ہے جو ۱۹۲۸ء میں شائع ہوئی۔ اس نے قرآن مجید کی تاریخ اور قراء ات پر بھی بہت کام کیا ہے۔ فقہ اسلامی کی تاریخ پر اس کی دو اعتبارات سے تحقیقات ہیں جنہیں اس کے شاگرد جوزف شاخت نے اپنی ریسرچ میں مزید آگے بڑھایا ہے۔ ایک تو اس نے فقہی فکر کی خصوصیات اور امتیازات کا تعارف کروایا ہے اور دوسرا فقہ اسلامی میں تحقیق کے مناہج پر بحث کی ہے۔ یہ مباحث جرمن تحقیقی مجلے 'Der Islam' میں ۱۹۲۵ء اور ۱۹۳۱ء میں شائع ہوئے ہیں۔4 جوزف شاخت (Joseph Franz Schacht) جوزف شاخت Joseph Franz Schacht (۱۹۰۲۔۱۹۶۹ء) ایک جرمن برطانوی مستشرق ہے۔ اہل مغرب میں اسے فقہ اسلامی یا قانون اسلامی کا ماہر ترین اسکالر سمجھا جاتا ہے۔ وہ ایک کیتھولک فیملی میں پیدا ہوا اور ابتدائی تعلیم جرمنی ہی سے حاصل کی۔شاخت، بیگش ٹراسا کا شاگرد ہے۔ ۱۹۳۲ء میں یونیورسٹی آف کونس بیگ (university of konigsberg) میں پروفیسر مقرر ہوا۔ ۱۹۳۴ء میں نازی ازم سے اختلاف کی وجہ سے قاہرہ آ گیا اور یہاں ایک پروفیسر کی حیثیت سے ۱۹۳۹ء تک تدریس کی۔ ۱۹۴۶ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی جوائن کی۔ اس کے بعد یونیورسٹی آف لائیڈن، نیدر لینڈ سے وابستگی اختیار کی۔ ۱۹۵۷ء میں کولمبیا یونیورسٹی، نیویارک میں تدریس شروع کی۔ اور ۱۹۵۹ء میں یہاں ہی علوم اسلامیہ اور عربی زبان کا پروفیسر مقرر ہوا۔5 فقہ اسلامی پر اس کی کتاب "Origins of Muhammadan Jurisprudence" آج بھی مغرب میں اپنے موضوع پر ایک مصدر سمجھی جاتی ہے۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ ۱۹۵۰ء میں شائع ہوئی۔ اس کے علاوہ اس موضوع پر اس کی ایک اور کتاب "An Introduction to Islamic Law" بھی ہے جو ۱۹۶۴ء میں شائع ہوئی ہے۔ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام میں اس کے کئی ایک مضامین شامل ہیں۔ معروف اسکالر محمد مصطفی الاعظمی نے اپنی کتاب "On Schacht's Origins of Muhammadan Jurisprudence" میں اس کے نظریات کا علمی محاکمہ کیا ہے۔