کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 158
غلط تفصیلات جمع کر دیں تا کہ وہ اپنا نقطہ نظر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے منوا سکیں11۔ اس اپوزیشن سے اس کی مراد اہل الاثر یا اہل الحدیث کا مکتبہ فکر ہے کہ جس کا مرکز مدینہ تھا اور اس کی سرپرستی امام مالک بن انس رحمہ اللہ پر ختم ہوئی۔ شاخت کے بقول اہل الرائے کو جواب دینے کے لیے اہل الحدیث کو چونکہ قرآن میں کسی قسم کی تبدیلی یا اضافہ مشکل محسوس ہوئی تو انہوں نے دوسرا رستہ اختیار کرتے ہوئے پہلے تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو منبع قدرت (Source of Authority) بنا ڈالا اور آپ کی یہ قانونی حیثیت ثابت کرنے کے بعد احادیث کا ایک ذخیرہ گھڑ کر آپ کی طرف منسوب کر دیا تا کہ وہ اپنے فقہی موقف کو اہل الرائے کی رائے سے برتر ثابت کر سکیں۔ اس طرح اہل الرائے کی مخالفت میں اہل الحدیث کی طرف سے حدیث کی آئینی حیثیت اور احادیث گھڑنے کی تحریک کا آغاز ہوا۔ اس کا چوتھا نکتہ یہ ہے کہ اہل الرائے اور اہل الحدیث کی اس مخالفت میں جب اہل الرائے نے یہ محسوس کیاکہ سنت کا جو معنی وہ مراد لے رہے ہیں یعنی تواتر عملی وہ اہل الحدیث کی کاوشوں کی وجہ سے دب گیا ہے اور اب ایک نیا معنی وجود میں آ گیا ہے کہ جس کے مطابق سنت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اور افعال کا نام ہے تو اہل الرائے نے سنت کے نام سے اہل الحدیث کی اس درآمد کو روک لگانے کے لیے اپنا لائحہ عمل تبدیل کرلیا۔ چونکہ اسلامی معاشروں میں اہل الحدیث کے غلبے کی وجہ سے اہل الرائے کے لیے یہ مشکل ہو گیا تھا کہ وہ سنت کے نام سے اہل الحدیث کے جمع کردہ ذخیرہ احادیث کا انکار کر سکیں لہٰذا اہل الرائے نے ان احادیث کی ایسی تشریح کرنی شروع کر دی جو ان کے مکتبہ فکر کے موافق ہو۔ اس طرح اہل الرائے بھی اپنی دفاعی پوزیشن کی وجہ سے قانونی اور فقہی احادیث کے ذخیرے میں الجھ کر رہ گئے12۔ اس کا پانچواں نکتہ یہ ہے کہ اس باہمی چپقلش کے نتیجے میں دوسری صدی کے اواخر اور بالخصوص تیسری صدی میں فقہائے اسلام کی یہ عادت بن چکی تھی کہ وہ اپنی بات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں ڈال کر منواتے تھے۔13 اس کا چھٹا نکتہ یہ ہے کہ کوئی ایک بھی قانونی یا فقہی حدیث ایسی نہیں ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہو بلکہ یہ مسلمان علماء کا کارنامہ ہے کہ انہوں نے ہزاروں قانونی