کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 22
باب دوم قرآن اور مستشرقین تھیڈو نولڈیکے (Theodor Noldeke) تھیڈو نولڈیکےTheodor Noldeke)۱۸۳۶۔۱۹۳۰ء) ایک جرمن مستشرق تھا۔ ۱۸۵۶ء میں تاریخ قرآن پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔اس کا یہ تحقیقی کام اس کے شاگرد فری ٹرش شوایلیFriedrich Zacharias Schwally (۱۸۶۳۔۱۸۱۹ء) کے تعاون سے ۱۸۶۰ء میں پہلی مرتبہ جرمن زبان میں شائع ہوا جبکہ اس کا اصل مقالہ لاطینی زبان میں تھا۔یہ مقالہ بعد ازاں"The History of the Quran" کے نام سے انگریزی میں بھی شائع ہوا۔ یہ کتاب تین جلدوں میں ہے۔ پہلی جلد ۱۹۰۹ء اور دوسری ۱۹۱۹ء میں شائع ہوئی جنہیں شوایلی نے ایڈٹ کیا۔جبکہ تیسری جلد ۱۹۳۸ء میں شائع ہوئی اور شروع میں تو اسے گاٹ ہیلف بیگش ٹراسا (Gotthelf Bergstrasser) ایڈٹ کرتا رہا جبکہ اس کی وفات کے بعدآٹو بیٹوش (Otto Bartus) نے ایڈٹ کیا۔ 1 علاوہ ازیں قرآن مجید سے متعلق نولڈیکے کے خیالات۱۸۹۱ء میں انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا میں 'The Quran' کے نام سے ایک آرٹیکل کی صورت میں زیادہ مرتب صورت میں شائع ہوئے۔نولڈیکے کو جرمن مستشرقین کاـ’ شیخ‘ (Leader) بھی کہا جاتا ہے۔ وہ یونیورسٹی آف سٹاش بوآ (University of Strasbourg)، فرانس میں مشرقی علوم کا استاذ رہا ہے۔ اسے یونانی علوم وفنون کے علاوہ عبرانی، سریانی اور عربی زبان میں بھی خاصا درک حاصل تھا2۔!۔اس کی کتاب ’’تاریخ قرآن‘‘ (The History of the Quran) مستشرقین کی نظر میں علوم قرآن پر ایک مصدر کی حیثیت رکھتی ہے۔ نولڈیکے کی تحریرپڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ منتشر خیالی اور غیر ضروری طوالت کے دو ستونوں پر قائم ہیں3۔" ہمارے خیال میں اصل مسئلہ منتشر خیالی ہے جو غیر ضروری طوالت کا باعث بنا ہے۔ ایک عام سے اعتراض کو اس قدر تمہید اور طوالت کے ساتھ بیان