کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 23
کرے گا کہ قاری سوچتا رہ جاتا ہے کہ اس نے ان دس صفحات میں بیان کیا کیا ہے؟اسی غیر ضروری طوالت کا نتیجہ ہے کہ اس کا تحقیقی کام تین جلدوں میں مرتب ہوا۔ اور غالباً یہ اس کی منتشر خیالی کا ہی کمال تھا کہ اس کے شاگردوں کو اس کے تحقیقی کام کو ایڈٹ کر کے شائع کرنے میں تقریباً چالیس سال لگ گئے۔ نولڈیکے کا خیال ہے کہ قرآن مجید پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی تصنیف ہے اور وحی آپ سے ایک بے قابو ہیجانی حالت میں صادر ہوتی ہے جسے وہ 'Uncontrollable Excitement' کا نام دیتا ہے۔ وحی ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ذات سے صادر ہوتی ہے اور آسمان سے نازل شدہ نہیں تھی، اس کی دلیل کے بارے نولڈیکے کا کہنا یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نڈر اور بے باک طبیعت کے حامل ایک وژنری (Visionary) انسان تھے۔ غار حرا کی زاہدانہ ریاضتوں نے ان کے دماغ کو جِلا بخش دی تھی۔ اور اس پرمستزاد یہ کہ ان کے منکرین کی مخالفت نے ان میں ایک چِڑ ان کی کیفیت پیدا کر دی تھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم یہودیت اور عیسائیت کے بارے بنیادی معلومات پہلے ہی سے رکھتے تھے اور وحی، جبرئیل، کتاب وغیرہ جیسے تصورات سے ناواقف نہ تھے۔ ان حالات اور معلومات کے ساتھ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی ایسے صادر ہوتی تھی جیسا کہ ایک شاعر کے سینے سے شعر نکلتا ہے۔ اگرچہ شاعر اپنے شعر کو ذاتی تخلیق سمجھتا ہے لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات سے صادر ہونے والے کلام کا صحیح تجزیہ نہ کر پائے اور جو کلام ان سے حالات کے تقاضوں کے تحت صادر ہوا تھا، اسے اپنی زاہدانہ طبیعت اور بھولپن کے باعث اللہ کی طرف سے نازل شدہ وحی سمجھ بیٹھے۔ اس بارے نولڈیکے لکھتا ہے: ـHow these revelations actually arose in Muhammad's mind is a question which is almost as idle to discuss as it would be to analyze the workings of the mind of a poet. In his early career, sometimes perhaps in its later stages also, many revelations must have burst from him in uncontrollable excitement, so that he could not possibly regard them otherwise than as divine inspirations. We must bear in mind that he was no cold