کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 26
تھے اور آپ کو کبھی بھی یہ وہم نہ ہوا کہ آپ نے کسی صحابی کو جبرئیل علیہ السلام سمجھ لیا ہو۔ یہ تمام قرائن اور شہادتیں واضح کرتی ہیں کہ وحی کا مصدر آپ کے خارج میں تھا نہ کہ آپ کی ذات میں اور خارج میں بھی وہاں جہاں آپ کا اختیار نہیں تھا یعنی آسمان میں۔ 6 علاوہ ازیں قرآن مجید میں بہت سی ایسی آیات ہیں کہ جن کے معانی آخری درجے میں یہ صراحت کر رہے ہیں کہ یہ کتاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی تصنیف نہیں ہے۔ سورۃ احزاب میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْٓ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاَنْعَمْتَ عَلَیْہِ اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ وَتُخْــفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَا اللّٰہُ مُبْدِیْہِ وَتَخْشَی النَّاسَ ۚ وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰـیہُ ۭ ](الاحزاب:37) ’’ اور اے صلی اللہ علیہ وسلم ! یاد کریں جب آپ اس شخص کہ جس پر اللہ نے انعام کیا اور آپ نے بھی [زیدرضی اللہ عنہ] کو کہہ رہے تھے کہ اپنی بیوی کو روکے رکھ[اُسے طلاق مت دے) اور اللہ سے ڈر۔ اور آپ اپنی ذات میں وہ کچھ چھپا رہے تھے کہ جسے اللہ تعالیٰ ظاہر کرنا چاہ رہا تھا۔ اور آپ لوگوں سے خوف محسوس کر رہے تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔‘‘ یہ آیت مبارکہ آپ کے منہ بولے بیٹے (Adopted) حضرت زید بن حارثہ اور ان کی اہلیہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہم کے بارے نازل ہوئی ہے8۔ ' حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنھم آپ کی پھوپھی زاد بہن تھیں او ر آپ کی خواہش پر ہی انہوں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے شادی کی تھی۔ جب حضرت زید رضی اللہ عنہ نے آپ کو بتلایا کہ وہ حضرت زینبؓ سے عدمِ توافق کی وجہ سے طلاق دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ نے انہیں طلاق دینے سے روک دیا اگرچہ آپ کے ذہن میں یہ تھا کہ اگر زید رضی اللہ عنہ نے زینب رضی اللہ عنہاکو طلاق دے دی تو آپ زینب رضی اللہ عنہاسے نکاح کر لیں گے۔ لیکن یہ خواہش ایسی تھی کہ جس کا اظہار معاشرتی دباؤ کے سبب ممکن نہ تھا کیونکہ دور جاہلیت کا یہ رواج تھا کہ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کی طرح سمجھتے ہوئے اس کی مطلقہ (Divorced) سے شادی کو جائز نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس پر قرآن مجید نے یہ تبصرہ کیا کہ آپ معاشرتی دباؤ کے سبب جس خواہش کو چھپانا چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کرنے والے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ کا قول ہے کہ اللہ کے