کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 27
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر قرآن مجید میں سے کچھ چھپانا ہوتا تو یہ آیت ضرور چھپا لیتے9۔ یہ آیت مبارکہ واضح کرتی ہے کہ وحی کا منبع آپ کی داخلی کیفیت نہیں تھی ۔ جہاں تک سورتوں کو ترتیب نزولی (Descending Order) کے اعتبار سے جمع کرنے کی کوشش کی بات ہے تو یہ کام نولڈیکے کے علاوہ، بلاشیے اور رچرڈ بیل وغیرہ نے بھی کیا ہے اور ان سب کا آپس میں اختلاف بھی ہے۔اور مستشرقین کا یہ باہمی اختلاف اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مجید کو ترتیب نزولی کے اعتبار سے جمع کرنے کے ان کے اصول اور نتائج دونوں درست نہیں ہیں۔ قرآن مجید کی ترتیب نزولی میں کچھ تفسیری روایات ہمیں تفسیر وحدیث کی کتابوں میں ملتی ہیں جن کی بنیاد پر بعض مسلمان علماء نے بھی ترتیب نزولی کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ نولڈیکے وغیرہ جیسے مستشرقین کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ترتیب نزولی کو متعین کرنے کے لیے تفسیری روایات کی بجائے اپنے مزعومہ اصولوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جیسا کہ قرآنی نص کے تحلیلی جائزہ (Analytical Analysis of the Text) کے ذریعے اس کا زمانہ نزول متعین کرنا وغیرہ۔ اس طرح کے اصول یقینی طور کسی نص کے زمانہ نزول کو متعین نہیں کر سکتے البتہ گمان یا احتمال کی حد تک کا علم حاصل ہو سکتا ہے۔ اور اس احتمالی علم کی بنیاد پر کسی علمی موقف کی بنیاد رکھنا درست نہیں ہے۔ ڈاکٹر مہر علی نے اپنی کتاب "The Quran and the Orientalists"میں نولڈیکے کی قرآنی سورتوں کی ترتیب نَو کا کئی ایک پہلوؤں سے تنقیدی مطالعہ پیش کیا ہے۔10 جہاں تک قرآن مجید میں کمی بیشی کا معاملہ ہے تو اس بارے خود نولڈیکے کنفیوژن کا شکار ہے۔ اس نے قرآن مجید میں کمی کے اثبات کے لیے "It has been conjectured" کے الفاظ استعمال کیے ہیں جسے ہم اپنی زبان میں ظن وتخمین کہتے ہیں۔ اوربے بنیاد قیاس آرائیوں پر اپنے موقف کو قائم کرنا علمی رویہ نہیں ہے۔ مالک حسین شعبان نے ۲۰۱۱ء میں جامعہ یرموک (Yarmouk University)، اُردن سے قراء ات اور رسم عثمانی کے بارے نولڈیکے کے افکار پر پی ایچ ڈی کی ہے۔ ان کے مقالے کا عنوان ’’القراآت القرآنیۃ فی کتاب تاریخ القرآن للمستشرق الألمانی نولدکہ: عرض ونقد‘‘ ہے۔اس کے علاوہ ڈاکٹر رضا محمد الدقیقی نے بھی جامعہ ازہر، مصر سے نولڈیکے پر پی ایچ ڈی مکمل کی ہے۔ اُن کے مقالے کا عنوان ’’قراء ۃ نقدیۃ جدیدۃ لکتاب تاریخ القرآن لنولدکہ‘‘ ہے۔ علاوہ ازیں مولانا محمد اویس ندوی کا ایک مضمون ’مستشرق نولدیکی اور قرآن‘ کے نام سے دار المصنفین، اعظم گڑھ، انڈیا کے شائع کردہ مجموعہ مقالات بعنوان ’اسلام اور مستشرقین‘ میں شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے سورۃ یوسف کی ایک آیت کی تفسیر کے حوالہ سے نولڈیکے کے افکار کو ہدف تنقید بنایا ہے۔11 ولیم کلیر ٹزڈال (William St. Clair Tisdall) ولیم کلیر ٹزڈال William St. Clair Tisdall (۱۸۵۹۔۱۹۲۸ء) برطانوی مستشرق ہے جو عربی سمیت کئی ایک مشرقی زبانوں میں درک رکھتا تھا۔ وہ چرچ آف انگلینڈ کی طرف سے ایران میں قائم مشنری سوسائٹی کا سیکرٹری بھی رہا۔ اس نے فارسی، ہندی، گجراتی اور پنجابی زبانوں کی گرامر بھی مرتب کی ہے۔قرآن مجید پر "The Original Sources of the Quran" اور "The Sources of Islam" کے نام سے کتابیں لکھیں12۔ پہلی کتاب۱۹۰۵ء میں نیویارک اور دوسری ۱۹۰۱ء میں اسکاٹ لینڈ سے شائع ہوئی۔ جب ان کتب پر مولوی محمد علی اور امام فخر الاسلام نے تنقید کی تو اس کے جواب میں کلیر ٹزڈال نے "A Word to the wise, being a brief defense of the Sources of Islam" کے نام سے بھی ایک تحریر مرتب کی جو ۱۹۱۲ء میں لکھنو، مدراس اور کولمبو سے شائع ہوئی۔ 13 کلیر ٹزڈال کی کتاب "The Original Sources of the Quran"یعنی ’’قرآن کے اصلی مصادر‘‘ چھ ابواب پر مشتمل ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن مجید وحی الہٰی یا آسمانی کتاب نہیں ہے اور یہ کتاب دورِ جاہلیت کے عرب مذاہب، عیسائیت، یہودیت، صابیت، حنیفیت اور دین زرتشت کے افکار و اعمال کا ملغوبہ ہے۔