کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 36
لہٰذا ان کے افکار کا آپ پر اثر ہونا ایک فطری امر تھامثلاً عثمان بن حویرث اور ورقہ بن نوفل، جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے کزن تھے، اور عبید اللہ آپ کی پھوپھی کے بیٹے تھے۔ 28 عثمان بن حویرث کے بارے ہم ابن ہشام رحمہ اللہ کا یہ بیان نقل کر چکے ہیں کہ وہ نبوت سے تین سال پہلے شام منتقل ہو گیاتھا اور اس نے عیسائیت قبول کر لی تھی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کے اثرات کے بارے کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ اور ورقہ بن نوفل نے بھی عیسائیت قبول کر لی تھی، نبوت کے وقت نابینا اور انتہائی بوڑھے تھے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی دفعہ ان سے ملاقات پہلی وحی کے نزول کے بعد ہوئی جیسا کہ ہم پیچھے نقل کر چکے ہیں اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق بھی کی تھی۔ بلاشبہہ یہودیت، عیسائیت، دین ابراہیمی اور دین اسلام میں بہت سی تعلیمات مشترک ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا مصدر ایک ہے یعنی وحی الٰہی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’والأنبیاء إخوة لعلات، أمہاتہم شتی ودینہم واحد ‘‘29 ’’ انبیاء علاتی(باپ شریک) بھائی ہیں۔ ان کی مائیں(شریعتیں) جدا ہیں جبکہ ان کا دین (باپ) ایک ہے۔‘‘ رچرڈ بیل) Richard Bell) رچرڈ بیل Richard Bell )۱۸۷۶۔۱۹۵۲ء) ایک برطانوی مستشرق تھا۔ ۱۹۳۷ء سے ۱۹۳۹ء کے مابین اس نے قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ"The Quran: Translated with a critical rearragnement of the Surahs" شائع کیا۔ اور ۱۹۵۳ء میں اپنا مشہور مقدمہ "Introduction to the Quran" شائع کیا جو ۱۹۷۰ء میں منٹگمری واٹ Montgomery Watt )۱۹۰۹۔۲۰۰۶ء) کی نظرثانی کے ساتھ دوبارہ شائع ہوا۔ اس کی ایک اور معروف کتاب "The Origin of islam in its Christian Enviorment" کے نام سے بھی ہے جو ۱۹۲۵ء میں شائع ہوئی۔ یہ تینوں کتابیں ایڈنبرایونیورسٹی پریس نے شائع کی ہیں۔ رچرڈ بیل، یونیورسٹی آف ایڈنبرا، برطانیہ میں عربی زبان کا استاذ رہا ہے۔30 رچرڈ بیل نے اپنے مقدمہ کو دس فصول میں تقسیم کیا ہے۔ پہلی فصل میں اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے حالات اور نظریات کو بیان کیا ہے۔ اس میں اس نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ قرآنی اسلوب کلام یہودیت، عیسائیت، حنیفیت، زرتشتی مذہب سے متاثر ہے31۔ اس اعتراض کا جواب کلیر تسدال کے بیان میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ دوسری فصل قرآن مجید کے نزول اور جمع کے بارے ہے۔ اس فصل میں اس نے قرآن مجید میں کمی بیشی کا دعویٰ کیا ہے اور دلیل کے طور بعض متواتر اور شاذ قراء ات کو بیان کیا ہے۔ ان قراء ات (Variant Readings) کے بیان سے رچرڈ بیل یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ یہ صحابہ کے مصاحف قرآنیہ (Quranic Codices) کا اختلا ف تھا جبکہ قراء ات کا اختلاف دراصل لہجات (Accents) کا تنوع تھا جیسا کہ آگے چل کر بیان ہو گا32۔ تیسری فصل قرآن مجید کی پاروں، احزاب، سورتوں میں تقسیم کے بارے ہے۔ اس تقسیم کے بارے اس کا کہنا ہے کہ یہ تلاوت کی غرض سے تھی۔ اسی فصل میں اس نے معوذتین کے بارے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا موقف بیان کیا کہ وہ انہیں قرآن مجید کا حصہ نہیں مانتے تھے33۔ رچرڈ بیل کے ان ا عتراضات کا بیان آگے آرتھر جیفری کے ذیل میں نقل ہو گا کیونکہ قدیم مصاحف اور قراء ات پر تحقیق اسی کا تخصص تھا۔