کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 39
جات کا مرکزی خیال تقریباً ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ بائبل کی طرح قرآن مجید بھی کوئی مستند مذہبی کتاب نہیں ہے۔ آرتھر جیفری نے ابن ابی داؤدرحمہ اللہ کی کتاب ’’کتاب المصاحف‘‘ کو ایڈٹ کر کے شائع کیا ہے۔ اس کتاب کے شروع میں اس نے عربی مقدمے میں قرآن مجید کے بارے اپنے کئی ایک فرسودہ خیالات و نظریات کا اظہار کیا ہے۔آرتھر جیفری کی تحقیق سے مزین ’’کتاب المصاحف‘‘ ۱۹۳۷ء میں پہلی بار شائع ہوئی۔ اس اشاعت کے شروع میں اس نے اپنی کتاب"Materials" کو بھی شائع کیا۔ یہ کتاب ۶۰۹ صفحات پر مشتمل ہے۔ بعد ازاں۱۹۶۰ء، ۱۹۶۳ء اور ۱۹۷۵ء میں بھی یہ کتاب شائع ہوئی ہے۔ آرتھر جیفری کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن مجید تحریری صورت میں موجود نہیں تھا۔ اس کے الفاظ ہیں: To begin with it is quite certain that when the Prophet died there was no collected, collated, arranged body of material of his revelations. What we have is what could be gathered together somewhat later by the leaders of the community when they began to feel the need of a collection of the Prophet's proclamations and by that time much of it was lost, and other portions could only be recorded in fragmentary form. There is a quite definite and early Tradition found in several sources which says, "The Prophet of Allah was taken before any collection of the Qur'an had been made. 40 آرتھر جیفری جیفری نے اپنے اس موقف کی بنیاد جس روایت کو بنایا ہے، اس کے الفاظ ہیں: ’’قبض رسول اللہ ولم یکن القرآن جمع فی شیئ ‘‘41 ’’ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اس حال میں ہوئی کہ قرآن مجیدکسی چیز میں جمع نہیں کیا گیا تھا۔‘‘ اس روایت میں قرآن مجید کے ایک جگہ جمع ہونے کا مسئلہ زیر بحث ہے نہ کہ کتابت کا، لہٰذا آرتھر جیفری کا استدلال درست نہیں ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن مجید ایک کتاب کی صورت میں ’بین الدفتین‘ (Between Covers)جمع نہیں کیا گیا بلکہ متفرق اجزاء کی صورت میں لکھا ہوا موجود تھا۔ صحیح روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کی زندگی میں قرآن مجید لکھا کرتے تھے۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ حضرت قتادہ رحمہ اللہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: ’’من جمع القرآن علی عہد النبی صلی اللہ علیہ وسلم؟ قال: أربعة، کلہم من الأنصار: أبی بن کعب ومعاذ بن جبل وزید بن ثابت وأبو زید ‘‘42