کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 4
پڑھا کر، اسے طے کرتے ہوئے اور اس پر حکمرانی کرتے ہوئے اس سے نمٹنے کا نام ہے۔ مختصر الفاظ میں استشراق، مشرق پر غلبے،اسی کی تشکیل جدید اور اس پر تفوق کا مغربی اسلوب ہے۔‘‘ واضح رہے کہ ایڈورڈ سعید ایک لاأدری (Agnostic)مفکر ہیں۔ خلاصہ کلام کے طور یہ کہا جا سکتا ہے کہ کلمہ ’استشراق‘ اپنی وضع (Laying) سے معاصر استعمال تک مختلف ادوار سے گزرا ہے اور اس کے اساسی مفہوم میں مشرقی لغات اور علوم وفنون میں رسوخ جوہری عنصر (Essence) کے طور شامل رہاہے۔ استعراب (Arabism) بعض اوقات ایک اصطلاح کا معنی ومفہوم اس کے مترادفات اور متضادات کے مطالعہ سے مزید نکھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ ’استشراق‘ کے مترادفات میں سے ایک اہم اصطلاح’استعراب‘ کی ہے، جس کا لغوی معنی ’عرب بننا‘ ہے۔7 منیر روحی بعلبکی ’استعراب‘ کی اصطلاحی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’فہو علم یختص بدراسة حیاة العرب وما یتعلق بہم من حضارة وآداب ولغة وتاریخ وفلسفات وأدیان...وأما المستعرب فہو عالم ثقة فی کل ما یتصل بالعرب وبلاد العرب أو باللغة العربیة والأدب العربی ‘‘8 ’’ استعراب سے مراد وہ علم ہے جو عربوں کی زندگی، تہذیب، فنون، لغت، تاریخ، فلسفہ اور مذاہب کے مطالعہ کے ساتھ مخصوص ہو۔۔۔ اور مستعرب اسے کہتے ہیں جو بلاد عرب یا عربی زبان وادب میں رسوخ رکھتا ہو۔‘‘ استغراب (Occidentalism) ’استشراق‘ کے متضادات میں سے ایک اہم اصطلاح ’استغراب‘ کی ہے۔ اس کا لغوی معنی ’حیرت‘ ہے9۔ (ڈاکٹر احمد سمایلوفیتش ’استغراب‘ کا اصطلاحی معنی متعین کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’یمکن القول أن کلمة الاستغراب مأخوذة من کلمة غرب وکلمة غرب تعنی أصلا مغرب الشمس وبناء علی ہذا یکون الاستغراب ہو علم الغرب ومن ہنا یمکن کذلک تحدید کلمة المستغرب وہو الذی تبحر من أہل الشرق فی إحدی لغات الغرب وآدابہا وحضارتہا" ) 10