کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 41
Prophet had made a collection of passages of his revelations written on leaves and silk and parchments, and just before his death told his son-in-law Ali where this material was kept hidden behind his couch, and bade him take it and publish it in Codex form. It is not impossible that there was such a beginning at a collection of revelation material by the Prophet himself, and it is also possible that Dr. Bell may be right in thinking that some at least of this material can he detected in our present Qur'an. 43 جیفری کے علاوہ منٹگمری واٹ کا بھی یہ دعوی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنا لکھنا جانتے تھے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ ایک تاجر تھے اور تجارت کے پیش نظر آپ کو حساب کتاب کے لیے پڑھنے لکھنے کی ضرورت تھی لہٰذا آپ پڑھے لکھے تھے۔ قرآن مجید میں آپ کے لیے ’أُمی‘ کا جو لفظ استعمال ہوا تو منٹگمری واٹ کے نزدیک اس سے مراد ’غیر یہودی‘ ہے نہ کہ ان پڑھ۔44 مستشرقین کی یہ بات درست نہیں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: [وَمَا کُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِہٖ مِنْ کِتٰبٍ وَّلَا تَخُــطُّہٗ بِیَمِیْنِکَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ ]45 ’’ اور آپ اس سے پہلے نہ تو کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ ہی اپنے داہنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔ اگر ایسا ہوتاتوقرآن کاانکار کرنے والے ضرور شک میں پڑ جاتے۔‘‘ اگر تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنا لکھنا جانتے ہوئے تو مشرکین مکہ اس آیت کو سنتے ہی شور مچا دیتے۔ اس آیت کی قرآن مجید میں موجودگی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ آپ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے۔ البتہ یہ واضح رہے کہ ’پڑھنا لکھنا‘ ایک فن ہے،علم نہیں۔ ایک شخص جو پڑھ لکھ سکتا ہو، جاہل ہوسکتا ہے جیسا کہ ہمارے ہاں بینرز لکھنے والے عموماً اصحاب علم میں سے نہیں ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک شخص جو پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو، عالم ہو سکتا ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم عالم تھے لیکن پڑھنا لکھنا نہیں جانتے ہیں۔ پڑھنا لکھنا علم نہیں ہے بلکہ علم کے حصول کے ذرائع (Means of Knowledge Acquisition) میں سے ایک ذریعہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کتاب یا علم اس امت کو دیا ہے، آپ نے وہ پڑھنے لکھنے کے ذریعے سے حاصل نہیں کیا بلکہ وحی کے ذریعے حاصل کیا ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذریعہ علم خاص ہے، عام نہیں۔