کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 42
آرتھر جیفری کا کہنا یہ بھی ہے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن مجید تحریری صورت میں اس لیے موجود نہیں تھا کہ اس میںکمی بیشی کے تمام امکانات موجود تھے لیکن جب آپ کی وفات ہو گئی تو اب یہ امکانات ختم ہو گئے اور مسلمان اپنی مقدس کتاب کو تحریری صورت میں لے آئے۔ اس کے الفاظ ہیں: Nevertheless there was certainly no Qur'an existing as a collected, arranged, edited book, when the Prophet died…Here, however, we have our first stage in the history of the text of the Qur'an. There could not be a definitive text while the Prophet was still alive, and abrogation of earlier material or accessions of fresh material were always possible. 46 اس اعتراض کا جواب ہم پہلے ہی نقل کر چکے ہیں کہ یہ دعویٰ ہی درست نہیں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن مجید تحریری صورت میں موجود نہیں تھا۔ صحیح اور مستند روایات کے مطابق قرآن مجید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لکھی ہوئی صورت میںمتفرق اجزاء کے طور موجود تھا اگرچہ ایک کتاب کی صورت میں نہیں تھا۔ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کے زمانے میں جمع قرآن کے کام کے بارے آرتھر جیفری کا خیال یہ ہے کہ یہ ایک ذاتی جمع (Personal Compilation) تھی نہ کہ سرکاری۔ اس کے خیال میں سرکاری سطح پر قرآن کی جمع کا کام حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں شروع ہوا۔ آرتھر جیفری نے اس خیال کا بھی اظہار کیا ہے کہ بعض اسکالرز کی تحقیق کے مطابق حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے جمع قرآن کا کام صرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مقرر کردہ کمیٹی میں کیا تھا لیکن چونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شخصیت متنازع تھی لہٰذا بعض صحابہ رضی اللہ عنہم