کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 43
نے جمع قرآن کے کام کی نسبت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف کرنے کے لیے کچھ ایسی روایات گھڑ لیں جن کے مطابق حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جمع قرآن پر مامور کیا گیاتھا۔ جیفری کے الفاظ ہیں: Modern criticism is willing to accept the fact that Abu Bakr had a collection of revelation material made for him, and maybe, committed the making of it to Zaid b. Thabit. It is not willing to accept, however, the claim that this was an official recension of the text. All we can admit is that it was a private collection made for the first Caliph Abu Bakr. Some scholars deny this, and maintain that Zaid's work was done for the third Caliph, Uthman, but as 'Uthman was persona non grata to the Traditionists, they invented a first recension by Abu Bakr so 'Uthman might not have the honour of having made the first Recension. 47 حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کی جمع قرآن (Compilation of the Quran)کو ذاتی جمع قرار دینا قطعاً غلط ہے۔ متفق علیہ روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ جمع سرکاری (Compilation for Public) تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خواہش پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ایک جگہ قرآن جمع کرنے کاحکم دیا تھا48۔ آرتھر جیفری نے اپنی کتاب "Material" میں کتاب المصاحف کے اس حصے کو بنیاد بنایا ہے کہ جس میں مختلف صحابہ اور تابعین کے مصاحف کا تذکرہ ہے۔ جیفری کا کہنا یہ ہے کہ صحابہ اور تابعین کے زمانے میں مسلمانوں کا کسی ایک قرآن پر اتفاق نہ تھا بلکہ ان میں سے اکثر کے پاس اپنا ذاتی مصحف تھا اور یہ ذاتی مصحف ایک ایسے قرآن پر مشتمل تھا جو دوسرے کے پاس نہیں تھا۔اس کا کہنا یہ ہے کہ ہمیں روایات و آثار سے صحابہ کے پندرہ اور تابعین کے تیرہ ایسے ذاتی مصاحف کا پتہ چلتا ہے کہ جن کی آیات مصحف عثمانی اور مروجہ قراء ا ت کے خلاف ہیں۔ آرتھر جیفری نے حضرت عبد اللہ بن مسعود،حضرت ابی بن کعب، حضرت علی، حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت ابوموسی اشعری،حضرت حفصہ،