کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 46
ابن ندیم رحمہ اللہ نے حضرت أبی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مصحف میں موجود سورتوں کی ترتیب مصحف عثمانی کے برعکس نقل کی ہے۔ اس ترتیب کے مطابق ان کے مصحف میں مصحف عثمانی کے بالمقابل ۱۰ سورتیں یعنی سورۃ العنکبوت، سورۃ لقمان، سورۃ الدخان، سورۃ الذاریات، سورۃ التحریم، سورۃ مزمل، سورۃ مدثر، سورۃ البلد اور سورۃ العصر غائب ہیں۔ علاوہ ازیں دو سورتوں سورۃ الخلع اور سورۃ الجید کا اضافہ بھی ہے56۔ اس روایت میں کل ۱۰۶ سورتوں کا بیان ہے حالانکہ روایت کے آخر میں لکھا ہے کہ یہ کل ۱۱۶ سورتیں ہوئیں یعنی مصحف ابن مسعود رضی اللہ عنہ والی روایت کی مانند یہ روایت بھی اپنی تکذیب خود ہی کر رہی ہے۔ 57 امام سیوطی رحمہ اللہ نے ’’الاتقان فی علوم القرآن‘‘ میں مصحف أبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی سورتوں کی جو ترتیب بیان کی ہے وہ ابن ندیم کی ترتیب سے مختلف ہے۔امام سیوطی رحمہ اللہ نے یہ روایت ابن أشتہ رحمہ اللہ (متوفی۴۹۱ھ) سے نقل کی ہے جو انہوں نے اپنی کتاب ’’ کتاب المصاحف‘‘میں بیان کی ہے۔ابن أشتہ  کی یہ کتاب اس وقت مفقود (missing) ہے لہٰذا اس خبر کی بنیادہمارے پاس ’’الاتقان‘‘ ہی ہے۔ابن أشتہ نے یہ روایت محمد بن یعقوب، انہوں نے ابوداؤد سے اور انہوں نے ابوجعفر الکوفی سے نقل کی ہے۔اور ابو جعفر الکوفی کی وفات ۲۴۸ھ میں ہوئی۔ ابن أشتہ کی بیان کردہ اس فہرست میں مصحف عثمانی کے بالمقابل ۱۰۶ سورتوں کا بیان ہے اور ۸ سورتیں یعنی سورۃ الفرقان، سورۃ فاطر، سورۃ زخرف، سورۃ قمر، سورۃ مجادلہ، سورۃ انسان اور سورۃ بروج وغیرہ غائب ہیں۔ علاوہ ازیں اس مصحف میں دو سورتوں، سورۃ الخلع اور سورۃ الحفد کا اضافہ بھی ہے58۔ یہ دونوں روایات بھی مضطرب (Contradictory) ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول ہیں۔