کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 5
’’یہ کہنا درست ہے کہ ’استغراب‘ کا لفظ’غرب‘ سے ماخوذ ہے اور ’غرب‘ سے مراد سورج غروب ہونے کی جگہ ہے۔ اسی بنیاد پر ’استغراب‘ کا معنی مغرب کے بارے جانکاری ہے۔ یہیں سے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ’مستغرب‘ وہ ہے جو کسی مغربی زبان یا فن یا تہذیب کے بارے رسوخ رکھتا ہو۔‘‘ ڈچ مصنف ای ین بروما Ian Burumaاور اسرائیلی پروفیسر آویشائے مارگیلٹ Avishai Margalit نے ایڈورڈ سعید کی کتاب کے ردعمل میں مغرب کے بارے مشرق کے منفی تاثر کے مصادر کی تلاش میں "Occidentalism: The West in the Eyes of Its Enemies" کے نام سے ایک کتاب مرتب کی جو ۲۰۰۴ء میں شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کی اشاعت سے پہلے ایڈورڈ سعید ہی کے اثر میں جیمز کیریئر James G. Carrier نے Occidentalism: Images of the West" کے نام سے ایک کتاب ایڈٹ کی جو ۱۹۹۵ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کی۔ مستشرق کا معنی ومفہوم استشراق کا لفظ عربی زبان میں’ مولد‘ (post-classical)ہے۔ اس سے اسم فاعل کا صیغہ’ مستشرق‘ بنتا ہے۔ اس کا انگریزی ترجمہ 'Orientalist' کیا جاتا ہے، جبکہ محققین کے نزدیک 'Orientalist' ’مستشرق ‘کا ترجمہ نہیں ہے بلکہ یہ ’عالم مشرقیات‘ کا ترجمہ ہے۔ اسحاق موسیٰ الحوینی کا کہنا تو یہ ہے کہ ’مستشرق‘ کوئی لفظ نہیں ہے بلکہ اصل لفظ ’عالم مشرقیات‘ ہے لیکن چونکہ اس لفظ کا استعمال بہت عام ہو چکا لہٰذا اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔11 مالک بن نبی ’مستشرق‘ کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’نعنی بالمستشرقین الکتاب الغربیین الذین یکتبون عن الفکر الإسلامی وعن الحضارة الإسلامیة"12