کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 55
تیسری فصل کا عنوان مدنی قرآن ہے اور یہ اس کے بقول ۲۴ سورتوں پر مشتمل ہے۔ چوتھی فصل کا موضوع علومِ قرآن ہے جس میں اس نے لغات القرآن، نحوالقرآن، قراء اتِ قرآنیہ اور بلاغت قرآن وغیرہ پر گفتگو کی ہے۔ پانچویں فصل قرآن کی تفسیر، اصولِ تفسیر اور تفسیر کے مقاصد واہداف کے بارے میں ہے۔ اس موضوع کے تحت اس نے تفسیر لفظی، تاویل، مشہور مفسرین اور ان کی کتب تفسیر پر بحث کی ہے۔4 چھٹی فصل مصادرِ اسلام کے بارے میں ہے۔ اس میں قرآن، سنت،اجماع، قیاس اور اجتہاد وغیرہ کے بارے میں اس نے اپنا نقطہ نظر بیان کیا ہے اور قرآن کے مصدرِ شریعت ہونے کی حیثیت پر گفتگو کی ہے۔ ساتویں فصل میں قرآن مجید کے مسلم معاشروں میں مقام اور اسلامی طرزِ حیات میں اہمیت کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ 5 بلاشیے کا یہ مقدمہ قرآن مجید اوراسلام پر الزامات واعتراضات سے بھرا پڑا ہے، جیسا کہ اس نے پہلی فصل میں ہی قرآن مجید پر یہ طعن کیا ہے کہ اس کا اسلوبِ کلام فکری الجھن (Intellectual Confusion)کا شکار ہے اور یہی اعتراض یہودی مستشرق گولڈ زیہر (۱۸۵۰۔۱۹۲۱ء) کا بھی ہے۔ ابراہیم عبد الکریم عبد اللہ نے اپنے مقالے ’’آراء المستشرق ریجش بلاشیر فی الوحی المکی والمدنی من خلال کتابہ القرآن: دراسة تقویمیة‘‘ میں اس پہلو سے بلاشیے کا مفصل رد پیش کیا ہے۔ دوسری اور تیسری فصل میں بلاشیے نے مکی سورتوں میں احوا لِ قیامت کے مضامین پر ارتکاز کی توجیہہ یہ بیان کی ہے کہ یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اِن موضوعات پر سوچ وبچارکی شدت ہے جس نے تخیل سے خود کلامی کی صورت اختیار کر لی، جیسا کہ ایک شاعر اپنے جذبات واحساسات اور ایک فلسفی اپنے فکر ونظر کو الفاظ کا جامہ پہنا دیتا ہے۔ بلاشیے کا یہ اعتراض وہی ہے جو اس سے پہلے فرانسیسی مستشرق پال کیزانووا Paul Casanova )۱۸۶۱۔۱۹۲۶ء) کر چکا ہے۔ بلاشیے، گولڈ زیہر اور کیزانووا کے علاوہ نولڈیکے سے بھی متاثر ہے6۔ اور اس شبہے کا جواب نولڈیکے کے بیان میں گزر چکا ہے۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر محمود ماضی نے ’’الوحی القرآنی فی المنظور الاستشراقی ونقدہ‘‘ میں وحی نفسی کے بارے مفصل گفتگو کی ہے۔