کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 61
ہوا ہے۔ دوسرا حصہ قرآن مجید کی نص کی تاریخ کے بارے ہے اور اس کا موضوع (The History of the Collection of the Quran Text) ہے۔ پہلی فصل جمع اول (The First Collection) جبکہ دوسری جمع عثمانی (The Uthman Collection) کے عنوان سے ہے۔ آٹھویں فصل جمع قرآن کا جائزہ (The Quran Collections: A Review) اور نویں اسنادِ قرآن (The isnad of the Quran) کے عنوان سے ہے۔ دسویں فصل عمومی نتائج (General Conclusions) کے بارے میں ہے۔ جان برٹن کا قرآن مجید کے بارے میں نقطہ نظر بہت ہی عجیب ہے۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ اگر ہم شاخت اور گولڈ زیہر کے تحقیق حدیث کے منہج کی روشنی میں ان روایات کا جائزہ لیں16 جو مسلمان اہل علم نے قرآن مجید کی تدوین وتاریخ کے عنوان سے نقل کی ہیں تو یہ جمیع احادیث موضوع (fabricated) اور منگھڑت قرار پاتی ہیں: The reports are a mass of confusions, contradictions and inconsistencies. by their nature, that represent the product of a lengthy process of evolution, accretion and improvement. 17 جان برٹن کا کہنا یہ ہے کہ آج ہمارے ہاتھوں میں جو مصحف موجود ہے یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مصحف ہے۔ وہ روایات جو یہ بیان کرتی ہیں کہ قرآن مجید ]ما بین الدُّفَّتَین[ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود نہیں تھا اور پہلی مرتبہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں کتابی صورت میں مرتب ہوا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے امت مسلمہ کو ایک رسم پر جمع کیا تو یہ جمیع احادیث منگھڑت ہیں۔ جان برٹن کی کتاب کا آخری جملہ یہ ہے: ـWhat we have today in our hands is the Mushaf of Muhammad. 18 ’’ہمارے ہاتھوں میں آج جو مصحف موجود ہے یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا لکھا ہوا ہے۔‘‘ جان برٹن کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں ایک مصحف اپنے پاس لکھ کر رکھا ہوا تھا جس کی گاہے بگاہے وہ تہذیب (editing) بھی کرتے رہتے تھے۔ اس کاکہنا یہ ہے کہ بعض اوقات محمد صلی اللہ علیہ وسلم نازل شدہ وحی کو صحیح طور پر یاد نہیں رکھ پاتے تھے یا بعض آیات کے تفصیلی مضامین کو وہ اختصار سے بیان کرنا چاہتے تھے جس کے لیے وہ قرآن مجید کو ایڈٹ کرتے رہتے تھے۔اس کے نزدیک ’سبعۃ أحرف‘ یعنی قراء ات کے اختلافات کی حقیقت بھی یہی ہے۔ یہ قرآن مجید کو آپ کی ذاتی تصنیف قرار دیتا ہے۔