کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 66
rationalist and opponent of all forms of obscurantism, now relies so heavily on writings by Christian polemicists from the nineteenth century. 25 مستشرقین کے نزدیک قرآن مجید کے مصادر قرآن مجید کے مصادر کے بارے مستشرقین اسی نوع کے اختلاف میں مبتلا نظر آتے ہیں کہ جس کاشکار مشرکین مکہ تھے۔ خود قرآن مجید ہی کے بیان کے مطابق اس کے اولین مخاطبین میں سے ایک جماعت نے اسے شعر (Poetry) قرار دیا ہے تو دوسری نے سحر (Magic)، بعض نے کاہنوں کا کلام اور بعض نے تورات وانجیل کا خلاصہ کہا۔ قرآن مجید ان سب دعووں کے جواب میں ناقدین کو صرف اتنا کہہ کر مسکت جواب دیتا ہے کہ اس جیسی کوئی ایک آیت ہی لے آؤ۔ شعر، جادو، کہانت اور سابقہ الہامی کتب سے اخذ واستفادہ کی صلاحیت ایک عام شاعر، ساحر، کاہن،پادری اور رِبی میں بھی ہوتی ہے۔ اگر یہ جادو، کہانت، شعر یاالہامی کتب سے اخذ واستفادہ ہے تو تم اس کلام کے جیسی ایک سورت یا آیت ہی لے آؤ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ]اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰیہُ ۭ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِہٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 13؀[26 ’’کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن مجید کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ لیا ہے۔ آپ ان سے کہہ دیں کہ تم اس کلام جیسی ایک سورت ہی لے آؤ اگر تم سچے ہو اور اس بارے اللہ کے علاوہ جس کو چاہو پکار لو۔‘‘ (۱)جاہلی شاعری: مستشرقین کی ایک جماعت نے شعر جاہلی کو قرآن کا ایک اہم مصدر قرار دیا ہے۔ کلیر ٹزڈال نے اپنی کتاب کے حواشی میں اس بارے مفصل بحث کی ہے۔ اس کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمیہ بن ابی صلت اور امرؤ القیس کے اشعار سے استفادہ کرتے ہوئے قرآن وضع کیا ہے ۔ اس کے الفاظ ہیں: It is sometimes said in the East at the present day that