کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 7
تحریک استشراق کا تاریخی پس منظر ( 1) تحریک ’استشراق‘ کا نقطہ آغاز کیا ہے، اس بارے مسلمان اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ استشراق کا آغاز ۸ ہجری میں غزوئہ موتہ سے ہوا ہے جب مسلمانوں اورعیسائیوں کے مابین پہلی باقاعدہ جنگ لڑی گئی۔ 18 (2) بعض دوسرے علماء کی رائے میں’ استشراق‘ کا باقاعدہ آغاز آٹھویں صدی عیسوی میں اندلس کی فتح کے بعد ہوا جب یورپ سے نوجوان اندلس کی اسلامی سلطنت کی معروف جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنا شروع ہوئے۔19 ڈاکٹر مصطفی السباعی کی رائے میں بھی تحریک’ استشراق‘ کا آغاز ان یورپین راہبوں سے ہوا جنہوں نے مشرقی علوم وفنون کے حصول کی خاطر اندلس کا سفر کیا۔ان راہبوں میں جربٹ آف أورے لیک Gerbert of Aurillac (۹۴۶۔۱۰۰۳ء) جو بعد ازاں سلویسٹر دوم Pope Sylvester II کے نام سے پوپ کے عہدے پر بھی فائز ہوا، بھی شامل ہے۔ پطرس المحترم Peter the Venerable (۱۰۹۲۔۱۱۵۶ء)، جو اندلس تعلیم حاصل کر کے فرانس واپس آیا اور مسلمان علماء سے مجادلہ ومناظرہ کر نے لگا، نے بھی اس کے بارے میں کتابیں لکھیں۔ ریمنڈ مارٹن Raymond Martin( ۱۲۳۰۔۱۲۸۴ء) بھی ان راہبوں میں شامل تھا جس نے مسلمان علماء سے علم الکلام سیکھنے کے بعد ’’خنجر الإیمان‘‘ of the true religion( (Daggerکے نام سے اہل اسلام اور یہود کے رد میں کتاب لکھی۔ انہی رہبان میں رامون لول Ramon Llull (۱۲۳۵۔۱۳۱۴ء) بھی شامل ہے۔20 3. ایک اور رائے کے مطابق معروف انگریز اسکالر راجر بیکن Roger Bacon (۱۲۱۴۔۱۲۹۴ء) نے مسیحی دنیا میں اضافے کے لیے ’تحریک تنصیر‘ (Evangelization)کو بہترین لائحہ عمل قرار دیا اور اس مقصد کے حصول کے لیے اسلامی لغات کی معرفت کو لازمی شرط قرار دیا21۔4 پندرہویں کیتھولک کونسل ’کونسل آف ویانا‘ Council of Vienne نے راجر بیکن کے ان افکار کی بدولت ۱۳۱۱۔ ۱۳۱۲ء میں پانچ یورپی جامعات میں عربی زبان کی چیئرز قائم کیں، جن میں پیرس، آکسفورڈ، بولونیا، سلمنکا اور بابویہ کی یونیورسٹیاں شامل ہیں22۔5 پس اہل علم کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ’ استشراق‘ کا آغاز ’کونسل آف ویانا‘میں منظور کردہ اس قرارداد سے ہوا ، جس کے مطابق کئی ایک یورپی جامعات میں عربی زبان کی چیئرز قائم کرنے کا فیصلہ صادر ہوا تھا۔23