کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 71
ماخوذ ہے۔ حنفاء دراصل دورِ جاہلیت میں لوگوں کی وہ جماعت تھی جو بت پرستی سے بیزار تھی اور وحدانیت کی طرف مائل تھی۔ لیکن ایسا رجحان رکھنے والے یہ حضرات بھی کسی ایک رائے پر متفق نہ تھے، بلکہ ان میں بھی باہم اختلافات تھے۔ ان لوگوں کو زبان، معروف عرب خطیب قُس بن ساعدہ کے کلام نے دی۔ اس نے ایک دفعہ عکاظ کے میلہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’کلا بل ہو إلہ واحد، لیس بمولود ولا والد، أعاد وأبدی، وأمات وأحیا، وخلق الذکر والأنثی، رب الآخرة والأولی، أما بعد: فیا معشر إیاد، أین ثمود وعاد؟ وأین الآباء والأجداد، وأین العلیل والعواد، کل لہ معاد، یقسم قس بن ساعدة برب العباد، وساطع المہاد، لتحشرن علی الانفراد، فی یوم التناد، إذ نفخ فی الصور، ونقر فی الناقور، وأشرقت الأرض، ووعظ الواعظ، فانتبذ القانط والصبر اللاحظ، فویل لمن صدف عن الحق الأشہر، والنور الأزہر، والعرض الأکبر، فی یوم الفصل، ومیزان العدل، إذا حکم القدیر، وشہد النذیر، وبعد النصیر، وظہر التقصیر، ففریق فی الجنة وفریق فی السعیر" 35 فتح مکہ کے موقع پر قبیلہ ’عبد القیس‘ کے لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور وہ زبان کی فصاحت وبلاغت میں معروف تھے۔اس وفدنے عیسائیت کو ترک کرتے ہوئے اسلام قبول کیا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قس بن ساعدہ کے بارے سوال کیا تو ان میں سے ایک شخص جارود بن معلی نے آپ کو اس کا تعارف کروایا اور آپ کے سامنے اس کا درج بالاخطبہ نقل کیا۔ قرآن مجید بار بار یہ واضح کرتا ہے کہ وہ فصیح عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: [اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ Ą۝]36 ’’بے شک ہم نے اس قرآن کو بطور عربی قرآن نازل کیا ہے تا کہ تم اسے سمجھو۔‘‘