کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 74
یہودیت، عیسائیت اور عرب مشرکین کو بیان کیا ہے۔ اس کے الفاظ ہیں: The Sources of the Quranic are unmistakenable: Christian, Jewish and Arab hesthenl. 43 مستشرقین جہاں انجیل یا عیسائیت کو اسلام اور قرآن مجید کا ایک مصدر گردانتے ہیں تو وہاں ان کے لیے ایک سوال یہ ہے کہ عیسائیت تو مکہ یا اس کے گردونواح میں موجود نہیں تھی تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائی عقائد کہاں سے معلوم کیے ؟ پس جب عیسائی موجود نہیں تھے تو انجیل کہاں سے ہو گی؟ رچرڈ بیل نے کہا ہے کہ اگرچہ ایسی تاریخی روایات تو ملتی ہیں کہ بیت اللہ کی دیوار پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصویر موجود تھی لیکن اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ مکہ یا اس کے گرد ونواح میں عیسائی موجود تھے: ٰIn spite of traditions to the effect that the picture of Jesus was found on one of the pillars of Ka'aba, there is no good evidence of any seats of Christianity in the Hijaz or in the near neighbourhood of Makkah or even of Medina. ڈاکٹر ہاملٹن گِب Hamilton Alexander Rosskeen Gibb )۱۸۹۵۔۱۹۷۱ء) نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ مکہ سے تجارتی قافلے یمن جایا کرتے تھے اور دونوں شہروں میں ایک باہمی تجارتی تعلق بھی موجود تھا۔ انہی قافلوں کے ذریعے عیسائی تعلیمات وافکار مکہ پہنچے اور انہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کتاب قرآن مجید میں ایڈجسٹ کیا۔اس کا کہنا یہ ہے کہ قرآن مجید کے ذخیرۂ الفاظ سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ یمن کے عیسائی افکار تجارتی قافلوں کے رستے مکہ پہنچ چکے تھے: In view of the close commercial relation between Mecca and Yemen it would be natural to assume that some religious ideas were carried to Mecca with the caravans of spices and woven stuffs, and there are details of vocabulary in the Quran which give colour to this assumption. 45 قرآن مجید بہت سے مقامات پر اناجیل (Gospels) کی مخالفت کرتا ہے جیسا کہ قرآن مجید تثلیث (Trinity)، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ابن اللہ (Son of God) ہونے اور انہیں صلیب دیے جانے کی نفی کرتا ہے۔ اگر تو قرآن مجید ان اناجیل کا محض ناقل ہی ہوتا تو ان سے اختلاف نہ کرتا۔46