کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 79
اور یہ اعتراض ایسا نہیں ہے جو پہلی مرتبہ مستشرقین نے کیا ہو۔ مستشرقین کے جمیع اعتراضات وہی ہیں جو مشرکین مکہ ان سے صدیوں پہلے کر چکے تھے۔ اسلام کے معاصر مخالفین تو ذہنی اعتبار سے اس قدر پس ماندگی کا شکار ہیں کہ کوئی نیا اعتراض بھی پیدا نہ کر سکے۔ جبکہ ان اعتراضات کے اصل موجد یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی سوسائٹی آپ پر ایمان لا کر ان جمیع اعتراضات کے لغو ہونے کاانکار کر چکی تھی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: [مَآ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّکَ بِمَجْنُوْنٍ Ą۝ۚ]58 ’’( اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! )آپ اپنے رب کی نعمت سے دیوانے نہیں ہیں۔‘‘ (۳)خود کلامی (Soliloquy) اور کلام نفسی کا اعتراض: ولیم میور کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم عرب معاشرے کی پست اقدار سے تنگ تھے، لہٰذا آپ غوروفکر اور مراقبوں کی طرف مائل ہوئے جس کے نتیجے میں آپ نے خدا، انسان، آخرت اور خیروشر کے بارے میں کچھ تصورات کو شاعری یا خود گوئی (Poetry and Soliloquy)کی صورت میں بیان کرنا شروع کیا۔ لیکن جب مخاطبین نے یہ کہا کہ ایک پیغمبر زیادہ اس لائق ہوتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوزیشن پر غور کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ یہ خدا کی طرف سے نازل شدہ ہے اور انہوں نے اس ذہنی کیفیت میں کچھ عجیب سا منظر (apparition)دیکھا جسے انہوں نے فرشتے سے تعبیر کیااور وہ مسلسل ایسا کلام پیش کرتے رہے جو ان کے دل ودماغ میں موجود حد تک بڑھے ہوئے جوش وجذبے کے نتیجے میں نیم مدہوشی کے عالم میں ان سے صادر ہوتا تھا59۔ ولیم میور کے اعتراضات کا جواب سرسید احمد خان نے اپنی کتاب ’خطبات احمدیہ‘ میں دیا ہے جو ۱۹۰۰ء میں علی گڑھ سے شائع ہوئی اور اس کا انگریزی ترجمہ ۷۰۔۱۸۶۹ء میں لندن سے شائع ہواتھا۔ رچرڈ بیل، مارگولیتھ اور منٹگمری واٹ کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اللہ کو دیکھنے اور برا ہِ راست وحی وصول کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ جبرائیل کے واسطے کا تصور بعد میں متعارف کروایا گیا۔ اور ان مستشرقین کے نزدیک وحی سے مراد تجویز یا الہام (Suggestion or Inspiration)ہے نہ کہ الفاظ یا کلام60۔ کلام الٰہی کی یہ وہی تعبیر ہے جسے قرون وسطیٰ کے بعض مسلمان متکلمین نے یونانی فلسفے سے متاثر ہو کر ’کلام نفسی‘ کے نام سے پیش کیا تھا۔ دوسری طرف منٹگمری واٹ کا کہنایہ بھی ہے کہ قرآن مجید کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی تصنیف قرار دینا درست نہیں ہے کیونکہ آپ کا یقین کامل تھا کہ آپ اپنی سوچ اور وحی میں فرق کر سکتے تھے: