کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 81
کہ کوئی خیال، سوچ یا الہام۔ (۴)اجتماعی لاشعور (Collective Unconscious) کی تعبیر: ایک اور مقام پر منٹگمری واٹ نے وحی کا خارجی مصدر انسانی اجتماعی لاشعور (Collective Unconscious) کو قرار دیا ہے63۔ اس کے بقول پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ورقہ بن نوفل سے ملاقات کے دوران عیسائیت کی تعلیم کے ذریعے اصلی رسالت کے پیغام کو سمجھا اور اسے اپنے تخیل وفکر کی قوت سے پروان چڑھایا۔ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مخلص لیکن غلط فہمی میں مبتلا قرار دیتا ہے۔ اس کے بقول ایک مخلص شخص بھی غلط ہو سکتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وحی کو خارج سے کوئی آسمانی پیغام سمجھا وہ دراصل ان کے لاشعور کی آواز تھی: To say that Muhammad was sincere does not imply that he was correct in his beliefs. A man maybe sincere but mistaken. The modern Westerner has not difficulty in showing how Muhammad may have been mistaken. What seems to a man to come from 'outside himself' may actually come from his unconscious. 64 مستشرقین کے اس اعتراض پر سوال یہ ہے کہ اگر یہ کلام تخلیقی تخیل یا اجتماعی لاشعور یا انسانی تخلیق تھا تو قرآن مجید نے جب اس جیسا کلام لانے کا چیلنج دیا تو اہل عرب کی اکثریت فصیح اللسان ہونے کے باوجود اس جیسا کلام کیوں نہ لا سکی؟ امر واقعہ یہ ہے کہ مستشرقین کے جمیع اعتراضات وہی ہیں جو ان سے بہت پہلے مشرکین مکہ کر چکے تھے اور ان کا کافی وشافی جواب بھی انہیں خود قرآن ہی دے چکا ہے۔ وحی کے بارے مستشرقین کے جملہ اعتراضات کا جواب ڈاکٹر محمود ماضی نے اپنی کتاب ’’الوحی القرآنی فی المنظور الاستشراقی ونقدہ‘‘ میں دیا ہے۔ (۵) قدیم مصاحف میں کمی بیشی کا دعویٰ: بعض مشترقین نے قرآن پر یہ اعتراض وارد کیا ہے کہ اس میں کمی بیشی ہوئی ہے، جیسا کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ کے مصحف میں سورۃ الفاتحہ اور معوذتین شامل نہیں