کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 83
غیر عربی الفاظ قرار دیا ہے۔ ایسی تحقیقات سے مستشرقین یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف غیر عربی زبانیں سیکھا کرتے تھے بلکہ ان سے اچھی طرح واقف بھی تھے۔ درست بات تو یہ ہے کہ آرامی (Aramic) بھی عربی زبان کا ایک لہجہ (dialect) ہی ہے جو ناپید ہو چکا ہے۔ امام شافعی، امام طبری، ابن فارس، امام سیوطی، قاضی ابوبکررحمہ اللہ علیہ کا موقف تو یہ ہے کہ قرآن مجید میں کوئی بھی عجمی لفظ موجود نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ فصیح عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ امام ابن جریر طبری نے البتہ یہ کہا ہے کہ قرآن میں جو دوسری زبانوں کے الفاظ موجود ہیں تو وہ اتفاقی مماثلت ہے۔67 ڈاکٹر حسن ضیاء الدین عتر نے اپنی کتاب ’’نقاء القرآن من الکلام الأعجمی‘‘ میں یہ کہا ہے کہ عربی زبان چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے بھی پہلے سے چلی آ رہی ہے لہٰذا اس زبان میں مستعمل جن الفاظ کی اصل یا مصدر یا اشتقاق موجود نہیں ہے تو یہ ایسے الفاظ ہیں جن کے مصادر یا اشتقاقات وقت کے ساتھ متروک ہوگئے جبکہ یہ الفاظ باقی رہے۔ (۷)رسم قرآنی (Quranic Orthography) پر اعتراض: آرتھر جیفری نے کہا ہے کہ مصحف عثمانی چونکہ نقاط،اعراب اور حرکات سے خالی تھا لہٰذا ایک ہی لفظ کوایک قاری ’یعلمہ‘ پڑھتا اوردوسرا ’نعلمہ‘۔ کچھ ’تعلمہ‘ پڑھتے توکچھ ’بعلمہ‘۔ یہی بات اس سے پہلے گولڈ زیہر بھی کر چکاتھا۔اس سے ان کا مقصود یہ ہے کہ قراءاتِ قرآنیہ رسم کے تابع ہیں، یعنی رسم سے جتنی قراء ات نکل سکتی تھیں وہ قراء نے نکال لیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ رسم، قراء ت کے تابع ہے۔ مسلمان علماء میں سے ابن مقسم (متوفی ۳۵۴ھ) کا یہ خیال تھا کہ اگر کسی قراء ت کی گنجائش مصحف کے رسم سے نکلتی ہو اور عربی زبان کے قواعد کے موافق ہو، خواہ اس کی سند نہ بھی ہوتو ایسی قراء ت جائز ہے۔ جبکہ ابن شنبوذ (متوفی ۳۲۸ھ) کا موقف یہ تھا کہ محض سند پر اعتماد کرنا چاہیے، یعنی اگر کسی قراء ت کی سند مل جائے توچاہے وہ رسم مصحف کے مطابق نہ بھی ہو تو بھی اسے پڑھنا جائز ہے69۔ حالانکہ ایسی قراء ات میں یہ احتمال موجود ہوتا ہے کہ وہ عرضہ اخیرہ میں منسوخ ہو چکی ہوں۔ ابن شنبوذ اور ابن مقسم کے افکار کو مسلمان علماء نے قبول نہیں کیا بلکہ وقت کے سلطان نے علماء وفقہاء کی موجودگی میں ان دونوں سے توبہ کروائی تھی اور ان کی توبہ باقاعدہ لکھی بھی گئی تھی۔70