کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 9
7. خالد ابراہیم المحجوبی نے استشراق کی ابتداء کو چار مراحل میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا مرحلہ صلیبی جنگوں کا تھا کہ جس میں مسلمانوں پر فتح حاصل کرنے کے مقصد سے مشرق کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کئی ایک مہمیں بھیجی گئیں۔ دوسرے مرحلے کا آغاز ان جنگوں میں عیسائی دنیا کی ناکامی سے شروع ہوا اور انہوں نے مشرقی علوم وفنون کے حصول کی طرف توجہ دی۔ تیسرا مرحلہ اٹھارہویں صدی عیسوی کے نصف سے لے کر دوسری جنگ عظیم کے خاتمے تک کا ہے جو استشراق کی تنظیم وتحریک کا مرحلہ ہے۔ چوتھا مرحلہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کا ہے۔28 8. بعض اہل علم کا خیال ہے کہ استشراق کسی بھی اعتبار سے کوئی علمی تحریک نہیں ہے،بلکہ یہ اسلام کے بارے میں ایک طے شدہ آئیڈیالوجی ہے، جس کی ترویج مقصود ہے،چاہے وہ حقائق پر مبنی ہو یا جھوٹ پر29۔ اسی ضمن میں انیسویں صدی کے اخیر میں مستشرقین کی پہلی کانفرنس پیرس میں ۱۸۷۳ء میں منعقد ہوئی۔30 اور یہی اس کا نقطہ آغاز ہے۔ 9. بعض اہل علم نے تحریک ’استشراق‘ کے آغاز کے بارے میں اس اختلاف کو اختلافِ تنوع قرار دیا ہے اوریہ کہا ہے کہ مختلف اہل علم نے متفرق ممالک کے اعتبارسے اپنی رائے کااظہار کیا ہے۔ اور مختلف علاقوں کے اعتبار سے مشرقی علوم وفنون اور تہذیب وثقافت کی طرف رغبت و میلان کی تاریخ اور وجوہات میں فرق ممکن ہے۔ ہماری رائے میں یہی بات درست معلوم ہوتی ہے مثلاًفرانس میں بارہویں صدی عیسوی میں ہی عربی زبان و ثقافت کی طرف رجحان پیدا ہو گیا تھا۔ پوپ آنریئس چہارم (Honorius IV) نے مشرقی لغات کی تعلیم کے لیے ۱۲۸۵ء میں ایک انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی31۔ انگلینڈ میں مستشرق کے لفظ کا استعمال تقریباً ۱۷۷۹ء میں اور فرانس میں ۱۷۹۹ء میں ہوا۔ ایک فرانسیسی ڈکشنری میں اس لفظ کا استعمال ہمیں ۱۸۳۸ء میں ملتا ہے32۔استشراق کے اطالوی مکتب فکر کی بنیاد اس وقت پڑی جبکہ مسلم سپہ سالار عبد اللہ بن موسیٰ بن نصیر نے ۷۰۸ء عیسوی میں اٹلی کو فتح کیا۔ برطانوی مستشرقین کے ضمن میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ برطانیہ سے جب اسکالرز کی ایک جماعت ، جن میں قاضی تھامس براؤن Thomas Browne (متوفی ۱۶۸۲ء) اور راجر بیکن وغیرہ شامل ہیں، نے اندلس کا رخ کیا تو یہی اس کا نقطہ آغاز تھا۔ ۱۹۳۲ء میں کیمبرج یونیورسٹی میں عربی زبان کے لیے ایک خصوصی چیئر قائم کی گئی33۔ اس کے بعد آکسفورڈ میں بھی اٹھارہویں صدی عیسوی میں عربی زبان کی چیئر قائم کی گئی۔ جرمنی میں استشراق کا نقطہ آغاز دوسرے صلیبی حملے (۱۱۴۷۔۱۱۴۹ء) کو قرار دیا جاتا ہے۔ اور اٹھارہویں صدی عیسوی میں جرمنی نے مشرقی علوم وفنون کی طرف باقاعدہ توجہ دی24۔ مستشرقین کے ہسپانوی مکتبہ فکر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جب سے مسلمانوں نے سپین کو فتح کیا، اس وقت سے وہ یورپ میں علوم اسلامیہ وعربیہ کا مرکز رہا۔ پاسکوال Pascual de Gayangos (۱۸۰۹۔۱۸۹۷ء) سپین میں تحریک استشراق کا بانی تصور کیا جاتا ہے35۔ ہالینڈ میں لائیڈن یونیورسٹی میں ۱۵۹۹ء میں علوم اسلامیہ کی چیئر قائم کی گی36۔ روسی مکتبہ فکر کے بارے میں یہ کہا جا تا ہے کہ عباسی خلافت کے اولین دور میں مسلمانوں کے عراق کے رستے روس سے تجارتی تعلقات قائم ہوئے اور یہی واقعہ مسلمانوں کی تہذیب وتمدن اور علوم وفنون سے اہل روس کی واقفیت کی بنیاد بنا۔ تیرہویں صدی عیسوی میں منگولوں (Mongols)نے اسلام کا ایک بڑا ورثہ روس میں چھوڑا37۔ امریکی استشراق کے ڈانڈے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی مشنری عیسائی تحریکوں ’تحریک تنصیر‘ (Evangelization) اور ’تحریک تبشیر‘ (Missionary Movement) سے جا ملتے ہیں۔ شروع میں امریکی استشراق کے بنیادی مقاصد مشنری تحریک کے تابع تھے جبکہ بعد ازاں مسلم دنیا میں امریکی اثر ونفوذ کے سیاسی ہدف کی تکمیل اس تحریک کا اولین مقصود ٹھہری۔38 تحریک استشراق کے اسباب ومحرکات(Reasons and Motives)