کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 92
پیش کیا۔ گولڈ زیہر سے پہلے گستاف وائل Gustav Weil (1808-1889) کا نام ہمیں ملتا ہے کہ جس نے اپنی کتاب "Geschichte der Chaliphen" میں یہ رائے پیش کی کہ صحیح بخاری کی تمام روایات کو رد کر دینا چاہیے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد سپرنگا Aloys Sprenger (1813-1893) نے اپنی کتاب"Das Leben und die Lehre des Mohammad" میں یہ بات کہی کہ ذخیرہ احادیث کی ایک بڑی تعداد ’موضوع‘ (fabricated) کی نسبت ’صحیح‘ احادیث پر مشتمل ہے۔ اس کی یہ کتاب تین جلدوں میں ۱۸۶۱ء سے ۱۸۶۵ء کے مابین شائع ہوئی۔ بعد ازاںولیم میور William Muir (1819-1905) نے اپنی کتاب "The Life of Mahomet" میں حدیث کی صحت وضعف معلوم کرنے کے لیے اپنا ایک ذاتی معیار متعارف کروایا۔ اس کے نزدیک احادیث کی حیثیت ایک تاریخی ریکارڈ (historical facts)کی سی ہے۔ علاوہ ازیں گولڈ زیہر سے پہلے ڈچ اسکالر رائن ہرچ ڈوزے Reinhart Dozy (1820-1883) نے اپنی کتاب "Het Islamisme" میں یہ رائے پیش کی کہ صحیح بخاری کی نصف روایات ’صحیح‘ ہیں6۔ یہ وہ مستشرقین تھے کہ جنہوں نے گولڈ زیہر سے پہلے حدیث کے بارے میںاپنی کسی رائے کا اظہار کیا۔ گولڈ زیہرنے اپنی تعلیم Budapest، Leipzig، Berlin اور Leiden کی یونیورسٹیوں سے حاصل کی۔ ۱۸۷۳ء میں اسے ہنگری حکومت نے شام، فلسطین اور مصر کے دورہ پر بھیجا تا کہ وہ مسلمان علماء سے استفادہ کر سکے۔ مصر میں قیام کے دوران اس نے جامعہ ازہر کے علماء سے استفادہ کیا۔ مصر میں قیام کے دوران وہ اسلام سے بہت زیادہ متاثر ہوا اور اس کے بقول وہ دل سے مسلمان ہو گیا تھااگرچہ زبان سے اس نے اسلام کا اقرار نہیں کیا تھا۔ اس کے الفاظ ہیں: In those weeks, I truly entered into the spirit of Islam to such an extent that ultimately I became inwardly convinced that I myself was a Muslim, and judiciously discovered that this was the only religion which, even in its doctrinal and official formulation, can satisfy