کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 96
’’حضرت عمرو بن دینار، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا سوائے شکار یا مویشیوں کی رکھوالی کے کتوں کے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہیں کہ کھیتی کا کتا بھی مستثنیٰ ہے تو انہوں نے جواب دیا: ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ کے پاس کھیت ہے۔‘‘ اصل واقعہ یہ ہے کہ ایک بار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آنے کا وعدہ کیا لیکن نہ آئے اور انہوں نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ آپ کے حجرہ مبارک میں کتے کا ایک بچہ تھاجس کی وجہ سے وہ نہ آسکے۔ روایت کے الفاظ ہیں: ’’عن ابن عباس قال: حدثتنی میمونة زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم ‘ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: إن جبریل، کان وعدنی أن یلقانی اللیلة، فلم یلقنی، ثم وقع فی نفسہ جرو کلب تحت بساط لنا، فأمر بہ فأخرج، ثم أخذ بیدہ ماء فنضح بہ مکانہ، فلما لقیہ جبریل قال: إنا لا ندخل بیتا فیہ کلب ولاصورة۔ فأصبح النبی صلی اللہ علیہ وسلم فأمر بقتل الکلاب ‘‘15 ’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ میمونہ رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دن مجھ سے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے رات میں ملاقات کا وعدہ کیا لیکن ملاقات کے لیے تشریف نہ لائے۔ پھر آپ کے دل میں کتے کے ایک بچے کا خیال آیا جو بستر کے نیچے گھسا ہوا تھا۔ پس آپ نے اسے حجرہ مبارک سے باہر نکالنے کا حکم دیا، پس اسے نکال دیا گیا۔ آپ نے اس کی جگہ پانی چھڑک دیا۔ پس جب جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی تو انہوں نے کہا: ہم فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے کہ جس میں کتا یا تصویر ہو۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر صبح ہوتے ہی کتوں کے قتل کرنے کا حکم جاری فرمایا۔‘‘ کتوں کی موجودگی چونکہ فرشتوں کی آمد میں مانع تھی لہٰذا آپ نے ان کے عمومی قتل