کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 97
کا حکم جاری فرمایا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ایک روایت کے الفاظ ہیں: ’’عن نافع عن ابن عمر قال: أمر رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم بقتل الکلاب، فأرسل فی أقطار المدینة أن تقتل۔‘‘ 16 ’’حضرت نافع، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا یہاں تک کہ مدینہ کے گردو نواح میں لوگوں کو اس مقصد کے لیے بھیجا گیا۔‘‘ اس قتل کے حکم میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بقول دو قسم کے کتوں کو مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں: ’’عن ابن عمر أن رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم أمر بقتل الکلاب، إلا کلب صید، أو کلب غنم، أو ماشیة ‘‘17 ’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا سوائے شکار یا مویشیوں کی رکھوالی کے کتوں کے۔‘‘ جب بڑی تعداد میں کتوں کو قتل کیا جا چکا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قتل سے منع کر دیا۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں: ’’عن جابر قال: أمر النبی صلی اللہ علیہ وسلم بقتل الکلاب، حتی کانت المرأة تقدم من البادیة یعنی بالکلب فنقتلہ، ثم نہانا عن قتلہا، وقال: علیکم بالأسود ‘‘18 ’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے قتل کا حکم دیا‘ یہاں تک کہ ایک عورت دیہات سے مدینہ میں اپنے کتے کے ساتھ آتی تھی تو ہم اس کتے کو بھی قتل کر دیتے تھے۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ کتے کے علاوہ کتوں کو قتل کرنے سے ہمیں منع کر دیا۔‘‘ ایک روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہیں، لہٰذا میرا مقصود ان کی نسل کا خاتمہ نہیں ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں کتوں کاپالنا ایک معمول اور رواج ہو وہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے اس حکم میں بظاہریہ حکمت بھی نظر آتی ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اس