کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 98
جانور کی محبت کی بجائے اس سے کراہت کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ جب یہ مقصود کسی درجے میں حاصل ہو گیا تو پھر ایک دن آپ نے مزید کتو ں کے قتل سے منع کرنے کے لیے ایک خطبہ دیا۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں: «عن عبد اللّٰہ بن مغفل قال: إنی لممن یرفع أغصان الشجرة عن وجہ رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم وہو یخطب، فقال: «لولا أن الکلاب أمة من الأمم لأمرتُ بقتلہا کلہا، فاقتلوا منہا کل أسود بہیم، وما من أہل بیت یرتبطون کلبا إلا نقص من عملہم کل یوم قیراط، إلا کلب صید، أو کلب حرث، أو کلب غنم»19 ’’حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے درخت کی شاخیں ہٹانے کے لیے انہیں پکڑا ہوا تھا جبکہ آپ خطبہ دے رہے تھے۔ پس آپ نے فرمایا: اگر کتے اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق نہ ہوتے تو میں ان سب کو قتل کرنے کا حکم دیتا۔ پس اب ان میں سے جو کالے سیاہ ہیں تو انہیں قتل کرو۔ اور کوئی بھی گھر والے کسی کتے کو باندھ کر رکھیں گے تو ان کے اجر وثواب میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہو جائے گا سوائے شکار، کھیتی یا مویشیوں کے کتے کے۔‘‘ اس روایت سے یہ وضاحت ہورہی ہے کہ یہ ایک دوسرے موقع پر علیحدہ سے حکم تھا۔ پہلا حکم کتوں کے قتل کا تھا اور اس میں شکار اور مویشی کا استثناء رکھا گیا۔ بعد میں کتوں کے قتل کا حکم ختم کر دیا گیا اور ایک دوسرا حکم جاری کیا گیا کہ کتا پالنا اجروثواب میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ اس حکم میں شکار اور مویشی کے ساتھ کھیتی کا استثناء بھی رکھا گیا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت پہلے حکم کے استثناء کے بارے میں ہے، جبکہ حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ کی روایت دوسرے حکم کے مستثنیٰ کو بیان کر رہی ہے، لہٰذا دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ کی طرح یہی استثناء حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ خود بھی ایک دوسرے مقام پر کر رہے ہیں۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں: ’’عن قتادة عن أبی الحکم، قال: سمعت ابن عمر، یحدث عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: «من اتخذ کلبا، إلا کلب زرع، أو غنم، أو صید، ینقص من أجرہ کل یوم قیراط»20